پاکستانی فوج صوبہ بلوچستان میں آپریشن شروع کرنے کے لئے آمادہ
پاکستان کے صوبۂ بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں پیدا ہونے والی حالیہ شدت کے بعد اس ملک کی وفاقی حکومت نے اس صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کے قتل کے واقعات کے بعد اسلام آباد حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس صوبے میں سخت ترین آپریشن شروع کیا جائے گا۔
پاکستان کے بہت سے سیاسی اور سیکورٹی حلقے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین آپریشن شروع کرنےکی منظوری دینے کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری میں امن قائم کرنے کو قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی فوج نے بارہا چینی حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والوں کو سیکورٹی اور تحفظ فراہم کرے گی اور چین کے تاجر آسانی کے ساتھ سی پیک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن متعدد چینی مزدوروں کے قتل کئے جانے سے ثابت ہوگیا ہےکہ پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز اپنے دعوے کے برخلاف پاک چین اقتصادی راہداری میں سیکورٹی قائم کرنے کی توانائی نہیں رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے صوبہ بلوچستان کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ سی پیک منصوبے سے خطے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ان کی حالت بہتر ہو گی۔ لیکن اس منصوبے میں چینی مزدوروں کو کام دینے اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری رہنے کی وجہ سے اس صوبے کے لوگوں میں اس منصوبے کے مثبت اثرات کے بارے میں مایوسی چھا گئی ہے۔ صوبہ بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے اور سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے اس صوبے میں کافی افرادی قوت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود چینی آجر چین کی افرادی قوت سے کام لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے وفاقی حکومت کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبۂ بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں شدت کا ہدف چین کےاقتصادی منصوبوں کو روکنا ہے۔ البتہ پاکستان کے صوبۂ بلوچستان کی سرحدوں پر حال ہی میں بدامنی میں اضافہ ہوا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے چند سیکورٹی گارڈز بھی پاکستانی سرزمین سے کئے جانے والے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں جس کے خلاف ایران کی حکومت نے اعتراض بھی کیا ہے۔ پاکستان کے صوبۂ بلوچستان میں بدامنی جاری رہنے کی وجہ سے اقتصادی منصوبے اور مشترکہ سرحدوں کی سیکورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے اور اس سے اسلام آباد حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس سے ایک جانب ہمسایہ ممالک کے ساتھ طے پانے والے اقتصادی معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق پاکستانی فوج اور حکومت کی صلاحیت پر علاقائی اور بین الاقوامی اعتماد میں کمی آ سکتی ہے اور دوسری جانب ہمسایہ ممالک کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لئے پاکستان کی وفاقی حکومت صوبۂ بلوچستان میں سخت ترین آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ اس علاقے میں امن قائم کرنے کی ضروری صلاحیت رکھتی ہے حالانکہ تجربےسے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس طرح کے اقدامات اور ان کے اثرات عارضی ہوتے ہیں۔