افغانستان میں داعش کی سرگرمی کے بارے میں پنٹاگون کا دعوی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i283158-افغانستان_میں_داعش_کی_سرگرمی_کے_بارے_میں_پنٹاگون_کا_دعوی
امریکی وزرات دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش پاکستان اور افغانستان کے لئے ٹھوس خطرہ نہیں ہے اور واشنگٹن ، افغانستان میں دہشت گردی مخالف کاروائیاں انجام دیتا رہے گا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۵ Asia/Tehran
  • افغانستان میں داعش کی سرگرمی کے بارے میں پنٹاگون کا دعوی

امریکی وزرات دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش پاکستان اور افغانستان کے لئے ٹھوس خطرہ نہیں ہے اور واشنگٹن ، افغانستان میں دہشت گردی مخالف کاروائیاں انجام دیتا رہے گا-

پنٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے دعوی کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں طالبان گروہ نے آٹھ مرتبہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا تاہم وہ ناکام رہا اور اسی سبب سے امریکہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی جاری رکھے گا- اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ کی نظر میں طالبان بدستور افغانستان میں اہم خطرہ ہیں- امریکہ نے دہشت گردی سے مقابلے اور طالبان اور القاعدہ کو نابود کرنے کے بہانے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کرلیا تھا- پھر نیٹو تنظیم کو آپریشنل بازو کے طور پر افغانستان میں تعینات کیا اور دوہزار چودہ تک امریکہ اور نیٹو کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی تعینات ہوگئے- اس سال تک طالبان سے مقابلہ امریکہ کا اہم ترین ہدف تھا- لیکن امریکی فورسیز کے جانی نقصان میں اضافہ اور افغانستان میں عوامی احتجاجات میں شدت اس بات کا باعث بنی کہ افغانستان ، امریکہ کے لئے ایک ویتنام میں تبدیل ہوجائے- امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے افغانستان کے دلدل سے خود کو نکالنے کے لئے اعلان کیا کہ امریکہ کے بیشتر فوجی 2014 تک افغانستان سے خارج ہونا شروع ہوجائیں گے اور دوہزار سولہ تک سبھی امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں گے-

افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈروں نے بھی اعلان کیا ہے کہ طالبان، اب امریکہ کا ہدف نہیں ہے اور اب اس گروہ کو، افغان امن عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دلانے کی کوشش کرنی چاہئے- لیکن دو مسئلہ اس بات کا باعث بنا کہ امریکہ ایک بار پھر اپنے فوجیوں کو افغانستان واپس لائے- پہلا مسئلہ یہ تھا کہ روس افغانستان میں امریکی فورسیز کی جگہ پر کرنے کی کوشش میں تھا اور دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ امریکہ، افغانستان کو علاقے میں اپنے فوجی اڈے میں تبدیل کرنے اور دہشت گرد و انتہا پسند گروہوں کو  شمالی افغانستان کی سرحدوں سے وسطی ایشیاء اور قفقاز میں منتقل کرنا چاہتا تھا- امریکہ کو افغانستان میں اپنے فوجیوں کو واپس لانے کے لئے کسی بہانے کی تلاش تھی کہ اس درمیان افغانستان میں داعش ابھر کر سامنے آگئے- امریکہ نے  اس دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے بہانے دوبارہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں اپنے فوجی تعینات کردیئے- 

درحقیقت وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور امریکہ میں ریپبلکن کی اقتدار تک رسائی نے ایک بار پھر اس ملک کے فوجی کمانڈروں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کریں اور دوبارہ اپنے فوجی افغانستان روانہ کریں- دوسری جانب ایوان نمائندگان اور امریکی سینٹ کے نمائندوں کے ایک گروہ کو اس بات سے بھی تشویش ہے کہ ان کے فوجی، داعش کے ساتھ لڑائی میں افغانستان میں مارے جائیں گے- اسی سبب سے امریکی وزارت دفاع نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ افغانستان و پاکستان میں سیکورٹی کے تعلق سے داعش سے کوئی تشویش نہیں ہے، فوجی بجٹ میں اضافے کے مخالفین کو یہ اطمئنان دلانے کی کوشش میں ہے کہ امریکی فوج کو داعش کی جانب سے خطرہ نہیں ہے اور  طالبان ہی بدستور ان کا اصلی ہدف ہیں- 

بہرحال اگر امریکی وزارت دفاع کا یہ دعوی سچا بھی ہو کہ داعش افغانستان و پاکستان کے لئے خطرہ نہیں ہے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت امریکی وزارت دفاع کا اس گروہ پرہولڈ ہے اسی سبب سے وہ اس طرح اطمئنان کے ساتھ داعش کے خطرہ نہ ہونے کا دعوی کر رہی ہے- اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس بات کا باعث بنا ہے کہ افغانستان میں داعش کے خطرہ ہونے کے تعلق سے پنٹاگون کے رویے کے بارے میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں-