عراق سے متعلق جنیوا اور استنبول اجلاسوں پر عراقی وزیر اعظم کی تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i283452-عراق_سے_متعلق_جنیوا_اور_استنبول_اجلاسوں_پر_عراقی_وزیر_اعظم_کی_تنقید
عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے جمعے کے دن اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران عراق کے مستقبل سے متعلق جنیوا اور استنبول میں امریکہ اور ترکی کے حکام کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاسوں پر شدید تنقید کی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۲ Asia/Tehran
  • عراق سے متعلق جنیوا اور استنبول اجلاسوں پر عراقی وزیر اعظم کی تنقید

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے جمعے کے دن اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران عراق کے مستقبل سے متعلق جنیوا اور استنبول میں امریکہ اور ترکی کے حکام کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاسوں پر شدید تنقید کی۔

حیدر العبادی نےکہا کہ بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت سے بلائے جانےوالے یہ اجلاس عراق کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے موصل میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیوں کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عراق اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور موصل آپریشن کے آخری مراحل سے گزر رہا ہے اور اس نے دہشت گردوں کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے وہ ہر گز فراموش نہیں کریں گے۔ اکتوبر سنہ 2016 میں موصل کی آزادی کا آپریشن شروع ہوا جس میں عراق کی رضاکار فورس کے دسیوں ہزار جوان بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن میں مشرقی موصل دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد ہوگیا ہے اور عراق کی سیکورٹی فورسز نے رواں سال فروری کے مہینے سے مغربی موصل کی آزادی کا آپریشن شروع کیا جو اب بھی جاری ہے۔ اس صورتحال سے دہشت گردوں کے حامیوں کو سخت تشویش لاحق ہوچکی ہے اور وہ فتنہ و فساد اور سازشوں کے ذریعے دہشت گردوں پر عراقی سیکورٹی فورسز کی فتوحات کا سلسلہ روکنے کے درپے ہیں۔

ان حالات میں حالیہ مہینوں کے دوران عراق کے مستقبل کے بارے میں جنیوا اور استنبول میں بلائے جانےوالے اجلاسوں کا ایک موضوع دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے بعد سنی اقلیم کا قیام یا اہل سنّت کے مستقبل کے بارےمیں غور وخوض کرنا تھا۔ ترکی کی حکومت نے امریکہ کے زیر انتظام بلائے جانے والے ان اجلاسوں کی حمایت کی اور ان کو عملی شکل دی۔ قطر اور سعودی عرب نے ان اجلاسوں کےانعقاد کے اخراجات برداشت کئے۔ جنیوا اور استنبول اجلاسوں میں بعض سنی گروہوں اور ایسی شخصیات نے آپس میں ملاقاتیں کیں جن پر امریکہ اور خطے کی بعض حکومتوں کی حمایت سے دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے۔

عراق آج بہت ہی حساس صورتحال سے گزر رہا ہے اور کسی بھی طرح کےسیاسی انتشار سے اس ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عراق میں مختلف قبائل ، اقوام اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ زندگی گزارتے ہیں اور ان کی پرامن بقائے باہمی دہشت گردی سمیت مختلف مشکلات پر غلبہ پانے کے لئے ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی حلقوں نے بھی بارہا خبردار کیا ہے کہ امریکہ عراق کی تقسیم کے ذریعے خطے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے حصول کے درپے ہے۔ عظیم تر مشرق وسطی کے بارے میں شائع کئے جانے والے نقشوں کے مطابق عراق کا شمار بھی اس منصوبے میں شامل ممالک میں ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران، کہ جب سے دہشت گرد گروہ داعش عراق میں داخل ہوا ہے، امریکہ اور ترکی کی کارکردگی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ واشنگٹن اور انقرہ عراق میں اپنے عزائم کی تکمیل داعش کے ذریعے کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ عراق کی صورتحال سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہےکہ اس ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات اور اس ملک کو فرقہ واریت اور قوم پرستی کی جانب دھیکلنے پر مبنی امریکی، ترک اور عرب حکام کے مشکوک اقدامات میں پیدا ہونے والی شدت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ جن کا مقصد عراق کو بدامنی اور عدم استحکام کا شکار بنا کر اسے تقسیم کرنا ہے۔

دریں اثناء عراق کے داخلی امور میں ترکی کی مداخلت پر عراق کے اندر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ ترکی نے سنہ 2015 کے اواخر سے کرد پیشمرگہ فورس کو تربیت دینے اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے اپنے فوجی غیر قانونی طور پر عراق کے صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل کی بعشیقہ فوجی چھاؤنی میں تعینات کر رکھے ہیں۔ ترک حکام عراق میں اپنی فوجی اور سیاسی مہم جوئی کا دائرہ بڑھا کر خطے میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عراق میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہیں۔ لیکن عراق میں ترکی کی مداخلت کے خلاف ظاہر کئے جانے والے وسیع رد عمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عراق کے سلسلے میں ترکی کی پالیسیاں بھی ناکامی کا شکار ہوچکی ہیں۔