پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا اپنی حکومت سے مطالبہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i284330-پاکستان_کے_شیعہ_مسلمانوں_کا_اپنی_حکومت_سے_مطالبہ
پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے اپنی حکومت کے وزیر داخلہ سے بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۰:۳۳ Asia/Tehran
  • پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا اپنی حکومت سے مطالبہ

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے اپنی حکومت کے وزیر داخلہ سے بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے اپنی حکومت کے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ پاکستانی شیعہ اپنی حکومت سے کم سے کم یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے بے گناہ نوجوانوں کو رہا کردیاجائے اور اگر حکومت یہ بھی نہیں کرسکتی تو وزیرداخلہ کو اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہیے۔ محلس وحدت مسلمین کے سربراہ راجہ ناصر جعفری نے کراچی میں منعقدہ استحکام پاکستان اور امام مہدی عج کانفرنس  جس میں شیعہ سنی علما اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کا سعودی اتحاد میں شامل ہوناایک انتہائی غلط اقدام ہے۔ان کا کہنا تھا جب سے ضیا آمریت کے دور میں پاکسان کو افغانستان کی جنگ میں جھونکا گیا ہے اس وقت سے لیکر آج تک پاکستانی قوم امن و امان کو ترس گئی ہے اور آج بھی موجودہ حکومت پارلیمنٹ اور عوام کی رائے کو نظر انداز کرکے سعودی اتحاد میں شامل ہورہی ہے ۔گزشتہ جند مہینوں سے پاکستان کے سیکوریٹی اداروں نے پاکستان کے شیعہ مسلمانون کے خلاف سخت رویہ اپنا رکھا ہے اور شیعہ قائدین کے مسلسل انتباہ کے باوجود دہشتگردون کے خلاف موثر اقدامات کی بجائے  بےگناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے  ۔پاکستان میں مختلف گروہ بالخصوص سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے گروہ کھلے عام دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں لیکن چونکہ ان گروہوں کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے لہذا حکومت بھی انکے خلاف نرم گوشہ رکھتی ہے۔

دوسری طرف پاکسان کے شیعہ نوجوانوں پر مختلف طرح کے الزامات لگا کر انہیں انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جارہا ہے حالانکہ پاکستان میں شیعہ اور سنی ہمیشہ محبت،اخوت اور بھائی چارے  کی فضا میں زنگی بسرکرتے چلے آ رہے  ہیں ۔ستر کے عشرے میں جب سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں گرمجوشی آئی تو سعودی عرب نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  اپنے مخصوص طرز فکر کے دینی مدارس کی بےدریغ مالی مدد کر کے نہ صرف انکی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ کیا بلکہ ان میں نام نہاد جہادی جزبے کو بھی فروغ دیا ۔ان مدارس میں پروان چڑھنے والے طلبا تکفیری جنگجو بن کر سامنے آئے ہیں جسکی وجہ سے پاکستان میں فرقہ واریت اور انتہاپسندی کو ہوا ملی۔اس دوران فرقہ وارانہ ماحول تیار ہوا اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بھی پاکستانی حکومت ،سعودی حکومت کو خوش کرنے کے لئے شیعہ نوجوانوں کو جیلوں میں بند رکھنا چاہتی ہے تاکہ رائے عامہ کی توجہ کو تکفیری دہشتگردوں سے ہٹا سکے۔