شام کی سرزمین کے خلاف صیہونی حکومت کے جارحانہ حملے جاری
جنوبی شام کے صوبے قنیطرہ میں، صیہونی حکومت کے ڈرون حملے میں تین شامی فوجی جاں بحق ہوگئے- شامی ذرائع نے ہفتے کو اعلان کیا کہ صیہونی حکومت کے ایک ڈرون طیارے نے صوبہ قنیطرہ میں شامی فوج پر حملہ کیا ہے-
موصولہ رپورٹ کے مطابق شامی فورسیز، ابوشبطہ اور الحمیدیہ محور کی جانب پیشقدمی کر رہی تھیں کہ صیہونی حکومت کے ڈرون طیاروں نے ان پر حملہ کردیا - یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صیہونی حکومت نے دہشت گردوں کی حمایت میں، شام کے فوجیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے- صیہونی حکومت نے ستائیس اپریل کی صبح کو بھی دمشق کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے جنوب مغرب میں واقع شامی فوج کے ٹھکانے پر متعدد میزائل داغے تھے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ شامی فوج کی انجیئرنگ یونٹ نے بھی جمعے کو ، حمص کے الوعر علاقے میں امریکی میزائلیں اور اسرائیلی ساخت کے ہینڈ گرینیڈ کا پتہ لگایا ہے- الوعر علاقے سے دہشت گردوں اور ان کے گھروالوں کے آخری گروپ کے نکلنے کے ساتھ ہی شہر حمص پرامن اور ہتھیاروں سے خالی ہوگیا ہے - شہر حمص شام کا تیسرا بڑا شہر ہے جو دارالحکومت دمشق اور حلب کے بعد ہے- شام کی بدلتی صورتحال ، اس ملک میں دہشت گردوں کی روز افزوں ناکامیوں کی نشاندہی کر رہی ہیں- اور یہی مسئلہ شام میں دہشت گردوں کےحامیوں میں بہت زیادہ تشویش لاحق ہونے اور شام میں ان کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت میں اضافے کا سبب بنا ہے-
شام کے بحران کے آغاز سے ہی صہیونی حکومت نے بارہا شام کے حکومت مخالف دہشت گردوں کی حمایت کرنے کے ذریعے، شامی فوج کے ٹھکانوں کو جنگ والے علاقوں خاص طور پر جولان کے علاقے میں نشانہ بنایا ہے- صیہونی حکومت نے 1967 کی جنگ میں شام کے جولان علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور 1981 میں اسے اپنی زمین میں شامل کرلیا - صیہونی حکومت کے یہ جارحانہ اقدامات ایسے میں انجام دے رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قانونی ثبوت کی حامل دو قراردادوں یعنی قرارداد 242 اور 338 کی بنیاد پر، جولان کے یہ مقبوضہ علاقے شام کا حصہ ہیں- شام میں اسرائیل کی تسلط پسندی اور شام کے علاقے جولان پر قبضہ جاری رہنے پر مبنی صہیونی حکام کے بیانات ایسی حالت میں سامنے آرہے ہیں کہ شام کو گذشتہ چند برسوں کے دوران مغرب ، صیہونزم اور ان کے علاقائی آلہ کاروں کے پروپگنڈوں کے سبب، شدید داخلی بحران کا سامناہے- شام میں مسلح دہشت گردوں نے مارچ دو ہزار گیارہ سے بعض مغربی اور عرب حکومتوں اور صیہونی حکومت کی حمایت سے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اب تک وہ اس ملک کے بہت سے فوجیوں اور عام شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
اسرائیل اس وقت بھی اس کوشش میں ہے کہ شام کے علاقوں منجملہ شام سے متصل، مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر واقع جولان کے علاقوں میں اپنے حملے تیز کرکے، شام میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ماحول بنائے رکھے- شام کے خلاف اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات ، دمشق کے خلاف اسرائیل کے مفادات جاری رہنے کے غماز ہیں جس سے یہ بات آشکارہ ہوجاتی ہے کہ شام کے بحران کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ کا ہاتھ ہے- امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف نام نہاد بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا کہ جس کا کوئی موثر اور فیصلہ کن نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ اس وقت جبکہ روس، شام کی قانونی حکومت کی مدد اور دہشت گردی کی سرکوبی کے لیے اس ملک میں کارروائیاں کر رہا ہے تو مغرب والے کھیل کے اصول و قواعد تبدیل ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ درحقیقت یہ مغربی ممالک ہیں کہ جنھوں نے شام کے میدان میں کسی بھی اصول و قاعدے کا خیال نہیں رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شواہد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ شام میں نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہوں کو فوجی مدد پہنچا کر شام کے میدان میں کھیل کو ایک بار پھر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود شام کے میدان میں مغرب والوں کے لیے کوئی پرامید مستقبل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں خصوصا داعش کے مظالم اور اس کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان دونوں ممالک سے متعلق مغرب کی غیر واضح پالیسی کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ دہشت گرد گروہ مظالم ڈھانے اور قتل عام کرنے کے لئے کسی حد کے قائل نہیں ہیں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کئے جانے کے باعث ان گروہوں کو جنگی اقدامات کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ان حالات میں دہشت گردوں کے حامی ممالک خصوصا بعض مغربی اور عرب حکومتیں بالاخص سعودی عرب ان دہشت گردوں کی حمایت سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں اور عملی طور پر یہی ممالک کیمیاوی ہتھیاروں تک بھی دہشت گردوں کی رسائی کو آسان بناتے ہیں۔ داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں نے متعدد بار کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں جس کی وجہ سے کیمیاوی دہشت گردی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے ۔ لیکن مغرب نے اس سارے عرصے میں خاموشی اختیار کئے رکھا ہے۔ بلاشبہ ایک عالمی معاہدے کی صورت میں اس خطرے کا مقابلہ کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لینے کی صورت میں اس کے اثرات عراق اور شام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ خطرہ عالمی پہلو اختیار کر لے گا اور دہشت گردوں کے حامیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔