ایران مخالف امریکہ کے نئے دشمنانہ اقدامات
امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اراکین نے ایک اجلاس میں ، جو جمعہ 26 مئی کو "ایٹمی سمجھوتہ اور عالمی سطح پرایران کے خطرات" کے عنوان سے منعقد ہوا، یہ دعوی کیا کہ ایٹمی سمجھوتے کے اعلان کے وقت سے ایران نے متعدد مرتبہ میزائل کا تجربہ کیا ہے اوریہ چیز ایران کے خطرہ ہونے کی علامت ہے-
اس کمیٹی کے اراکین نے مذکورہ اجلاس میں کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ٹھوس طریقے سے ان خطروں کا مقابلہ کیا جائے اور ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی جائیں - سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کس طرح یہ کام کرسکتا ہے- دوسال قبل ایران اور دنیا کے چھ ملکوں یعنی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبرملکوں اور جرمنی نے مشترکہ اقدام کی بنیاد پر ایک جامع معاہدے پر دستخط کئے تھے، کہ جسے مشترکہ جامع ایکشن پلان سے شہرت حاصل ہوئی، اس کے بعد سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف جو فضا ہموار تھی اس کا خاتمہ ہوگیا - مشترکہ جامع ایکشن پلان پرعملدرآمد، معاہدے کے ہر فریق کی ذمہ داری ہے اور امریکہ بھی اس معاہدے پردستخط کرنے والا ایک ملک ہے کہ جس نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تناظر میں ایران کے خلاف عائد پابندیاں ختم کئے جانے کو تسلیم کیا ہے- مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد ایک سال سے شروع ہوا ہے لیکن ابھی بھی امریکہ مختلف بہانوں سے اس میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے-
امریکہ نے گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرکے ایران پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی راہ میں ایران کی ترقی کو روکا جاسکے لیکن جب اسے اس بات کا یقین ہوگیا کہ ایران کے خلاف اس کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں اور یورپی یونین بھی ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہی ہے تو پھر وہ مذاکرات کی میز پر آگیا اور اس نے ایٹمی معاہدے پر دستخط کردیئے- امریکہ باوجودیکہ جانتا ہے کہ ایران کبھی بھی دوسروں کے لئے خطرہ یا ایٹمی ہتھیار بنانے کا درپے نہیں رہا ہے اور نہ ہے، اس کے باوجود بدستور ایران کے خلاف الزام تراشی اور ایران کو خطرہ ظاہر کرنے کے درپے ہے- امریکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کرنے کے بعد یہ ڈھنڈھورا پیٹ رہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایران کے بیلسٹیک میزائل بنائے جانے کی روک تھام کا باعث نہیں بنا ہے اس لئے امریکہ کی کوشش ہوگی کہ وہ ایران کے میزائل سے لاحق خطرات کی روک تھام کرے- لیکن امریکہ کو اچھی معلوم ہے کہ ایٹمی معاہدے کا ایران کی میزائلی صلاحیت سے کوئی ربط نہیں ہے اور اسی باعث اپنے یکطرفہ پروپگنڈے کے ذریعے وہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں کرسکتا۔ اس لئے اگر کوئی بل ، امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی یا پارلمینٹ اور یا سینٹ میں بھی منظور کرلیا گیا تو امریکہ ، ایران مخالف اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کی زیادہ پوزیشن میں نہیں ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ یران نے بارہا کہا ہے کہ اسے اپنا میزائل پروگرام جاری رکھنے کے لئے امریکہ یا کسی اور ملک سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے - اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مروجہ دفاعی صلاحیت کا حامل ہونا ہر ملک کا حق ہے اور ایران بھی اسی دائرے میں اقدامات انجام دے رہا ہے - ایران نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے برخلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور بیلسٹیک میزائل کے تجربے کا بھی ایٹمی معاہدے سے کوئی ربط نہیں ہے -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ کی غیرقانونی مداخلتوں اور ایران دشمن پالیسیوں کے جواب میں وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل دہقان کو حکم دیا کہ منظور شدہ دفاعی پالیسوں کے دائرے میں مسلح افواج کی ضرورت کے مطابق انواع و اقسام کے میزائلوں کی تیار ی میں مزید تیزی لائی جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع کے نام صدر روحانی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مداخلت پسندانہ اور غلط قدم اٹھائے جانے کی صورت میں وزارت دفاع اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی میزائلی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے نئی منصوبہ بندی کرے- اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں، علاقے میں امن و استحکام کا باعث ہیں۔ یہ نہ صرف دوسرے ملکوں کے لیے خطرہ نہیں ہیں بلکہ صرف اپنی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے تحفظ نیز دہشت گردی اور انتہا پسندی سے مقابلے اور علاقائی و عالمی مشترکہ مفادات کے لئے ہیں- اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی مذاکرات کے دوران ہمیشہ یہی کہا ہے کہ اس نے ملک کی دفاعی طاقت منجملہ میزائل پروگرام کے حوالے سے کسی سے بھی مذاکرات نہیں کئے ہیں اور اپنے اس قانونی حق کے دفاع پر تاکید کرتے ہوئے اس سلسلے میں کسی بھی محدودیت اور پابندی کو قبول نہیں کرتا ہے۔
واضح ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام ، جامع مشترکہ ایکش پلان کا حصہ نہیں ہے جس کا امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے۔ جیسا کہ بارہا اعلان کیا جا چکا ہے، ایران کی دفاعی حکمت عملی اور پالیسی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اسی لئے بیلیسٹک میزائل، کہ جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل بھی نہیں ہیں، بنانے کا کام ملک کے دفاع کے لئے ایک اہم اور رائج ہتھیار کے طور پر پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا- بہرحال شروع سے ہی یہ بات واضح تھی کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے اور اب اس کی بے اعتمادی کی علامات مزید آشکارا ہوگئی ہیں- اس طرح کے دھمکی آمیز اقدامات، درحقیقت امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایران کی استقامت کا اندازہ لگانے کے لئے انجام پا رہے ہیں-