ایران ، عمان ، کویت اور قطر کے روابط ریاض کے دائرہ اختیار سے باہر
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i284626-ایران_عمان_کویت_اور_قطر_کے_روابط_ریاض_کے_دائرہ_اختیار_سے_باہر
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایران مخالف اتحاد قائم کرنے کے مقصد سے عرب - امریکی پروپیگنڈہ اجلاس کے انعقاد کے تقریبا دس دن بعد عمان کے وزیر خارجہ نے تہران اور مسقط کے تعلقات کو حقیقت اور دوستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں رونما ہونے والے بعض واقعات ایران کے ساتھ عمان کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۲۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۳ Asia/Tehran
  • ایران ، عمان ، کویت اور قطر کے روابط ریاض کے دائرہ اختیار سے باہر

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایران مخالف اتحاد قائم کرنے کے مقصد سے عرب - امریکی پروپیگنڈہ اجلاس کے انعقاد کے تقریبا دس دن بعد عمان کے وزیر خارجہ نے تہران اور مسقط کے تعلقات کو حقیقت اور دوستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں رونما ہونے والے بعض واقعات ایران کے ساتھ عمان کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے-

عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے اتوار کے روز بی بی سی عربی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے اب تک اسلامی جمہوریہ ایران اور عمان کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے- ریاض اجلاس کے بعد عمان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان اور ایران کے بارے میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی صدر ایران حسن روحانی کے ساتھ ٹیلفونی گفتگو سےاس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ علاقے میں سعودی عرب کی کوششیں محض سیاسی اور دشمنانہ ہیں اور ان حالات میں ایران کے خلاف دیگر عرب ملکوں کو اپنا ہمنوا بنانا ایک مشکل امر ہے اس لئے کہ سارے عرب ممالک سعودی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں-

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں  ایران کے صدارتی انتخابات میں کامیابی  پر ڈاکٹر حسن روحانی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے تہران کے ساتھ دوحہ کے تعلقات کو دیرینہ، تاریخی اور مستحکم قرار دیا اور کہا کہ ایران اور قطر کے تعلقات کو فروغ دینے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں پائی جاتی- اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مثبت اور دوستانہ تعلقات رکھنے میں عمان اور قطر کے ساتھ ہی کویت کا بھی مثبت نقطہ نگاہ ، ان ملکوں کے فہم و ادراک کی علامت ہے کہ جو اپنے تعمیری تعاون اور باہمی اتحاد کو ہی علاقے کی مشکلات کے خاتمے اور بعض غلط فہمیوں کے ازالے کی واحد راہ حل سمجھتے ہیں- 

اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا دوطرفہ احترام اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خلیج فارس کے ملکوں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کو اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں میں سے قراردیا ہے اور اسی موضوع پر ایک بار پھر ایران کے صدر اور امیر قطر نے اپنی حالیہ ٹیلیفونی گفتگومیں تاکید کی ہے- ایران نے ہمیشہ  اجتماعی تعاون پر تاکید کی ہے اور فرقہ واریت کے نقطہ نگاہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران اور عرب ملکوں کے درمیان تعلقات کو اہمیت دی ہے اور یہی باہمی تعاون ہی علاقے میں پائیدار سلامتی اور دوطرفہ مفادات کی ضمانت فراہم کرنے والا ہے- بعض ممالک جو ایرانو فوبیا کے تعلق سے علاقے میں بیجا  اور بے مقصد کوششیں کر رہے ہیں یہ مشرق وسطی کے علاقے کے فائدے میں نہیں ہیں اور اس قسم کی پالیسیوں کے جاری رہنے سے، ملکوں کے درمیان اختلافات وجود میں آئیں گے اور عالم اسلام کے دشمنوں کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ آئے گا -

اکیس مئی 2017 کو بعض عرب اور اسلامی ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ ریاض میں امریکی صدر ٹرمپ کا اجلاس ، ایرانو فوبیا کو تقویت پہنچانے کے مقصد سے منعقد کیا گیا- جبکہ ایران علاقے کا ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ تکفیری دہشت گردی کے ساتھ مقابلے میں فرنٹ لائن پر ہے-  ریاض اجلاس محض سیاسی اہداف، اور پھر اقتصادی مفادات کے حصول کے مقصد سے انجام پایا ہے- ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران، سعودی عرب اور امریکہ نے ایک سو دس ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے اور یہ اقدام، ایرانو فوبیا کے سائے میں امریکہ میں ہتھیار بنانے والے کارخانوں کو حرکت میں لانے اور امریکہ میں روزگار پیدا کرنے کے لئے سعودی عرب کے اربوں ڈالرخرچ کئے جانے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے-
یہ پالیسی علاقے کے ملکوں کے فائدے میں نہیں ہے بلکہ اس سے، صرف عربوں اور ایران کے دشمن عناصر منجملہ امریکہ  کو فائدہ پنہچ رہا ہے - علاقے کے با اثر ممالک جیسے ایران ، عمان ، کویت اور قطر علاقے کی صورتحال کو منطقی اور عاقلانہ نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اسی طرز فکر کے سائے میں ہی اور اجتماعی تعاون سے علاقے کی مشکلات و مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور ان ہی حالات میں علاقے میں پائیدار امن و سلامتی کا قیام ممکن ہے-