اسرائیل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی متضاد پالیسیاں
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل بدستور مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی جاری رکھے ہوئے ہے-
مقبوضہ سرزمین پراقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر دفتر کے سربراہ "ڈیوڈ کارڈن " نے بدھ کی رات ایک بیان میں کہا کہ سینتالیس ہزار فلسطینی اگست دوہزار چودہ سے دوہزار سولہ کے اختتام تک جبری طور پر صیہونی حکومت کے ذریعے فلسطین کے مختلف علاقوں خاص طور پر1948 کے مقبوضہ علاقوں سے نکالے گئے ہیں-
اسرائیل کے توسط سے فلسطینی قوم کو بے گھر کئے جانے کے تعلق سے اقوام متحدہ کا اعتراف، کہ جو اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید شمار ہوتا ہے، ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ مغرب کے دباؤ کے تحت ، اسرائیل کے مقابلے میں اقوام متحدہ نے تسلیم ہوتے ہوئے جنرل اسمبلی میں صیہونی حکومت کے نمائندے کو اس کا نائب سربراہ منتخب کیا ہے-
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر نے ایک رپورٹ میں صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل دو کے حوالے سے لکھا ہےکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ووٹنگ کے بعد ڈینی ڈانون کو مغربی ملکوں کے نمائندے کی حیثیت سے انتخاب کیا گیا ہے اور ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے ساتھ ہی باضابطہ طور پر وہ یہ عہدہ سنبھال لیں گے- ڈانون یہ عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی مینیجمنٹ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور اس طرح سے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں اپنا تخریبی کردار ادا کریں گے-
یہ انتخاب ایسی حالت میں ہوا ہے کہ ڈانون نے صیہونی پارلیمنٹ کنسٹ میں 2009 میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب نمائندوں کے خلاف نسل پرستانہ اور نسلی کشیدگی پر مبنی حملےکئے خاص طور پر صیہونی کینسٹ کے دو عرب ارکان "عزمی بشارہ" اور "حننین زعبی" کے خلاف اسی نے اقدامات کئے تھے اور اسی نے بارہا ان افراد کو جلاوطن کرنے کا مطالبہ کیا تھا- یہ صیہونی عہدیدار اور اس کے حامی افراد، مسجد الاقصی پر صیہونی حکومت کی حاکمیت اور تسلط اور اس مسجد پر حملے نیز مسجد الاقصی کو زمان و مکان میں تقسیم کرنے اور اس مسجد میں یہودیوں کے توسط سے مذہبی پروگراموں کے انعقاد کے حق میں ہیں-
اگرچہ اسرائیل کے انسانیت سوز اقدامات کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف رازفاش کرنے والی رپورٹوں کا شائع کیا جانا ایک مثبت اقدام ہے لیکن یہ اقدام کافی شمار نہیں ہوتا - اس سلسلے میں اقوام متحدہ کا ادارہ ، صیہونی حکومت کے خلاف ٹھوس تدابیر اختیار کرنے کے بجائے عملی طور پر اس عالمی ادارے کے بعض اہم اور کلیدی عہدوں پر اس غاصب اور ناجائز حکومت کے افراد کو بیٹھال رہا ہے کہ جس نے ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس طرح کے اقدامات سے اس ادارے کی تنزلی اور اس کے بے اعتبار ہونے کے سوا اور کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا-
درحقیقت صیہونی حکومت کے تعلق سے اقوام متحدہ کی کارکردگی ، اس ادارے کے متضاد رویے کو بیان کر رہی ہے اور اس طرح کے اقدامات اسرائیلی حکام کو ہری جھنڈی دکھانے کے مترادف ہیں تاکہ وہ مزید جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے فلسطینیوں کو دربدر کرنے اور ان کو بے گھر کرنے کی اپنی انسانیت سوز پالیسی جاری رکھ سکیں - مقبوضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اپنی نسل پرستانہ ماہیت منوانے کے لئے فلسطینیوں کو دربدر اور بے گھر کرنے کی صیہونی حکومت کی پالیسی اس کے ناجائز وجود کے آغاز سے ہی اس کے ایجنڈے میں شامل تھی-
صیہونی حکومت، مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں کالونیوں کی تعمیر ، فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے در بدر کرنے جیسے انسانیت دشمن اقدامات انجام دے کر فلسطین کے مختلف علاقوں کی آبادی کا تناسب، صیہونیوں کے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے- اس طرح صیہونی حکومت ، مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بناکر ، مقبوضہ فلسطین میں ایک یہودی حکومت کی تشکیل پر مبنی اپنے نسل پرستانہ اہداف کو عملی جامہ پہنانے کی زمین ہموار کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے-
صیہونی حکومت کو ایک یہودی حکومت کے عنوان سے تسلیم کرانے کا منصوبہ پیش کرنے کا اصلی مقصد ، تمام فلسطینیوں کو فلسطین سے باہر نکالنے کے حالات فراہم کرنا اور خود مختار فلسطینی ملک کی تشکیل کو روکنا ہے- صیہونی حکومت، فلسطینیوں کے رہائشی مکانات، سرکاری اداروں کی عمارتوں اور مختلف علاقوں میں موجود اسلامی آثار کو ڈھا کر فلسطینی علاقوں کو صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ اس طرح ، عالمی برادری سے ان علاقوں پر اپنا تسلط منوا سکے-
صیہونی حکومت کی کارکردگی ، فلسطینی علاقوں پر صیہونیوں کے مکمل تسلط کے مقصد سے فلسطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا اس حکومت کی خطرناک سازشوں اور منصوبوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس طرح کے غیر انسانی رویے نے اس حکومت کی نسل پرستی کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے- صیہونی حکومت کی انسان دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ، لاکھوں فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کی صورت میں نکلا ہے-