ایران مخالف پروپگنڈہ، امریکی وزیردفاع کا بے بنیاد دعوی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285018-ایران_مخالف_پروپگنڈہ_امریکی_وزیردفاع_کا_بے_بنیاد_دعوی
چھ سال گزرنے کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے، امریکہ میں سعودی عرب کے اس وقت کے سفیر کے قتل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران پر بے بنیاد کوشش کے الزام کی ایک بار پھر تکرار کی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۳ Asia/Tehran
  • ایران مخالف پروپگنڈہ، امریکی وزیردفاع کا بے بنیاد دعوی

چھ سال گزرنے کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے، امریکہ میں سعودی عرب کے اس وقت کے سفیر کے قتل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران پر بے بنیاد کوشش کے الزام کی ایک بار پھر تکرار کی ہے-

پہلی بار اکتوبر دوہزار گیارہ میں اس وقت کے امریکی وزیر انصاف اریک ہولڈر نے دعوی کیا تھا کہ امریکی اہلکاروں نے، امریکہ میں اس وقت کے سعودی سفیر اور موجودہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر پر قاتلانہ حملے کو، جس کی منصوبہ بندی ایران نے کی تھی، ناکام بنا دیا - اسلامی جمہوریہ ایران نے اسی وقت پوری قاطعیت کے ساتھ ، ٹھوس جواب دیا تھا کہ قتل کرنا غیر مہذب افراد کا کام ہے اور ایران کی تہذیب و ثقافت میں قتل نام کی کوئی جگہ نہیں ہے اور ایران کے خلاف اس طرح کے الزامات امریکی پروپگنڈہ ہیں-

امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنانہ رویہ اختیار کیا ہے اور ہر بار کوشش کی ہے کہ ایران مخالف پروپگنڈے کے ذریعے اس ملک پر، جو خود امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، تخریبی اقدامات کا الزام لگائے- امریکی حکام نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی ہر بہانے سے ایران کو خطرہ بنا کر ظاہر کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ایٹمی معاملے میں ایران پر الزامات لگاتے ہوئے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو غیر معمولی اور خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ایٹمی معاملے میں امریکہ کے الزامات ایٹمی معاہدے کے بعد ختم ہو گئے لیکن اس کی ماہیت نہیں بدلی اور صرف طریقے اور سناریو تبدیل ہوئے ہیں۔

اب امریکہ نے ایران کے میزائلی پروگرام پر تشویش کے نام سے ایک سناریو شروع کیا ہے جبکہ ایک دوسرا سناریو یہ ہے کہ ایران دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ پروپگینڈے ایسے عالم میں جاری ہیں کہ جب گزشتہ نصف صدی میں ایران کے خلاف امریکہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امریکہ ہمیشہ سے ایران کے خلاف خطرہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ نے ان تمام برسوں میں خواہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے  پہلے ہو یا انقلاب کی کامیابی کے بعد میں، ایرانی قوم کے خلاف ہی قدم اٹھایا ہے اور صرف اس موقع پر ایران کے  ایٹمی معاملے پر مذاکرات کے لئے تیار ہوا جب اس نے اپنی پابندیوں اور دھمکی آمیز پالیسیوں کو ناکام ہوتے دیکھا، یاد رہے امریکہ ایٹمی معاہدے کی مکمل طرح سے خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ اقدامات ایران کے لئے خاص پیغامات کے حامل ہیں اس معنی میں کہ امریکہ کی دشمنی مختلف شکلوں اور طریقوں سے جاری ہے یہاں تک کہ مختلف طرح کی سازشوں کی صورت میں بھی جاری ہے اور امریکہ ایرانی قوم کے حقیقی دشمن کی حیثیت سے تمام حربوں کو استعمال کر رہا ہے۔ ایران کی سائنسی اور علمی ترقی و پیشرفت کی امریکہ کی جانب سے مخالفت، اسلامی نظام کے خلاف مختلف طرح کے الزامات لگانا، اور ایران کے ہمسایہ ملکوں میں سمندری، زمینی اور فضائی فوجی اڈے قائم کرنا اس کے علاوہ خلیج فارس میں ایران کے عرب ہمسایہ ملکوں کو بے تحاشا ہتھیار فروخت کرنا نیز ایران کو سیکورٹی کے لحاظ سے چیلنچوں میں گرفتار کرنا امریکہ کی ایسی اسٹریٹیجیاں ہیں جنہیں امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی قومی ایمرجنسی کے قانون میں توسیع لانے سے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ ایران کے خلاف ایک صف میں آجا‏ئیں۔

اسی اسٹراٹیجی کے مطابق خلیج فارس میں امریکہ اور برطانیہ کے زیادہ مشترکہ اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں اور اسی ہدف کے تحت وہ اسرائیل کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکہ کی اسٹریٹیجی ایران کے آس پاس کے علاقوں میں خطروں کا دائرہ تنگ تر کرنا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب نے حالیہ ریاض اجلاس میں پوری کوشش کی کہ ایران کو دہشت گردی کا حامی ظاہر کریں لیکن عراق ، کویت ، لبنان ، عمان اور قطر جیسے بعض عرب ملکوں کے منطقی موقف کے سبب اس اجلاس میں جس کو شکست ملی وہ سعودی حکام ہیں- واضح رہے کہ امریکی وزیر جنگ نے سعودیوں کو خوش کرنے کے لئے ایران کے خلاف تقریبا چھ سال قبل کے بے بنیاد اور خود ساختہ سناریو کی تکرار کی ہے اور ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حکام کے اس قسم کے دعووں کا کھوکھلا ہونا سب پر ظاہر ہوچکا ہے-