آل سعود کے وحشیانہ اقدامات کا نیا مرحلہ شروع
سعودی عرب سے ملنے والی خبروں سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ آل سعود نے اس ملک کے عوام کے خلاف اپنے حملوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ آل سعود کے فوجیوں نے مشرقی سعودی عرب میں واقع العوامیہ کے علاقے پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے العوامیہ شہر میں مسجد شیخ محمد بن نمر کو میزائل کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس مسجد کو آگ لگ گئی۔
مشرقی سعودی عرب میں واقع حی الدیرہ کے علاقے میں بھی آل سعود کے مارٹر حملے میں مسجد احمد بن حمود نذر آتش ہوگئی ہے۔ موصولہ خبروں سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہےکہ الدیرہ کے علاقے پر آل سعود کے فوجیوں کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب آل سعود حکومت نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر کے مشرقی سعودی عرب کے شیعہ آبادی والے علاقوں کو عملی طور پر میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے اور ان علاقوں کے باشندوں کے قتل عام میں شدت پیدا کر دی ہے۔
رائے عامہ نے آل سعود کے ان اقدامات کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ سول تنظیموں نے مشرقی سعودی عرب میں واقع العوامیہ شہر کے نہتے باشندوں کے گھروں پر آل سعود کے حملے کو آل سعود کے اخلاقی زوال کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے جمعے کے دن ایک اناڑی پن پر مبنی اپنے مشکوک بیان میں، کہ جس سے اس ملک کے حکام کی بوکھلاہٹ کی عکاسی ہوتی ہے، قطیف کے مرکز میں واقع میاس نامی بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے کی ذمےداری قبول کرلی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے عوام خصوصا اہل تشیع حالیہ مہینوں کے دوران آل سعود حکومت کے شدید تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور ان کو تکفیری دہشت گردوں کے وحشیانہ مظالم کا سامنا ہے۔ ان مظالم کی جڑ سعودی عرب پر قابض وہابی حکام کے نظریات ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب آل سعود حکومت نے حالیہ چند دنوں کے دوران سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور ان کو سزائے موت کا حکم سنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ مخالفین کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچلنے اور ان کو سزائے موت سنانے کا نیا مرحلہ آل سعود حکومت کی ریاستی دہشت گردی کا مصداق ہے۔ یہ حکومت فرقہ واریت پر مبنی اپنے اہداف کے حصول کے لئے کسی بھی ظلم سے دریغ نہیں کرتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ حتی مساجد اور دوسرے مقدس اسلامی مقامات بھی آل سعود حکومت کے وحشیانہ حملوں سے محفوظ نہیں ہیں حالانکہ یہ حکومت، مسلمانوں اور اسلامی دنیا کی خدمت اور ملت اسلامیہ کی حفاظت کرنے کی دعویدار ہے۔
وہابیت دقیانوسی افکار و نظریات نیز مذہب کی غلط تشریح کا نام ہے۔ یہی خصوصیت آل سعود حکومت میں بھی پائی جاتی ہے اور اس ملک کے اہل تشیع کی سرکوبی میں شدت پیدا ہونے کا سبب بھی یہی ہے۔ سعودی عرب میں حکومت کے مخالفین کو سزائے موت سنائے جانے کا نیا مرحلہ ایسی حالت میں شروع ہوا ہے کہ جب یہ حکومت اپنے مخالفین کو اجتماعی سزائے موت دینے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ جنوری سنہ دو ہزار سولہ میں بھی سعودی عرب میں اجتماعی طور پر سزائے موت دی گئی۔ اس موقع پر آل سعود نے غیر انسانی اقدام انجام دیتے ہوئے اپنے متعدد مخالفین کو موت کی سزا دی۔ ان افراد میں سعودی عرب کے جید عالم دین آیت اللہ نمر باقر النمر بھی شامل تھے۔ آل سعود کے اس اقدام سے دینی علما کے ساتھ اس کی گہری دشمنی کا پتہ چلتا ہے۔
آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو دو جنوری سنہ دو ہزار سولہ میں سزائے موت دی گئی۔ جس انداز میں ان کو سزائے موت دی گئی اسے ہولناک جرم اور ریاستی دہشت گردی کا مصداق قرار دیا گیا۔ آل سعود حکومت اپنے منظم جرائم اور سرکوبی پر مبنی اقدامات میں شدت پیدا کر کے اس ملک پر حکمفرما ظالم پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے درپے ہے لیکن حکومت کے مخالفین پر کئے جانے والے تشدد کے بعد عوامی احتجاج میں آنے والی شدت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ ظلم و ستم کے خلاف سعودی عرب کے عوام کا احتجاج ختم ہونے والا نہیں ہے۔ سعودی عرب کے شہریوں خصوصا اس ملک کے اہل تشیع کے خلاف آل سعود کے ہولناک مظالم کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود دنیا والے دیکھ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ نے انسانیت کی دشمن اس حکومت کے سلسلے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اپنے مغربی حامیوں خصوصا امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بن گیا۔ بلاشبہ اس طرح کے اقدامات سے ہی آل سعود حکومت سعودی عرب کے عوام پر مظالم ڈھانے کے سلسلے میں پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہوگئی ہے۔