روس اور ہندوستان کے باہمی فوجی تعاون میں توسیع
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285278-روس_اور_ہندوستان_کے_باہمی_فوجی_تعاون_میں_توسیع
روس کے صدر اور ہندوستان کے وزیر اعظم نے سینٹ پیٹرز برگ میں مذاکرات کے بعد سیاسی، فوجی، دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں باہمی تعاون میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۶ Asia/Tehran
  • روس اور ہندوستان کے باہمی فوجی تعاون میں توسیع

روس کے صدر اور ہندوستان کے وزیر اعظم نے سینٹ پیٹرز برگ میں مذاکرات کے بعد سیاسی، فوجی، دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں باہمی تعاون میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کئے۔

ولادیمیر پیوٹن اور نریندر مودی نے مشترکہ طور پر ہتھیار بنانے سے بھی اتفاق کیا۔ ہندوستانی حکومت کے زاویۂ نگاہ سے یہ معاہدہ نئی دہلی کا اہم ترین مطالبہ تھا اور نریندر مودی سنہ دو ہزار چودہ میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اس کے لئے کوشاں تھے۔ ہندوستان کی قوم پرست حکومت کا خیال ہے کہ نئی دہلی کو ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات روس سے فوجی ہتھیاروں کی خریداری کی صورت سے تبدیل کر کے ان ہتھیاروں کی مشترکہ طور پر تیاری کی صورت میں تبدیل کرنے چاہئیں تاکہ ہندوستان بھی ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں داخل ہوسکے اور روس سے ہتھیار حاصل کرنے والے ممالک کی فوجی ضروریات کو پورا کرسکے۔

روس اور ہندوستان کے تعلقات سوویت یونین کے زمانے سے ہی اسٹریٹیجک رہے  ہیں اور روسی حکومت مغرب کی جانب ہندوستان کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب بی جے پی کے نزدیک روسی ہتھیاروں پر ہندوستان کے انحصار کا زمانہ اب ختم ہو چکا ہے اور روس کو چاہئے کہ وہ نئی دہلی کو اپنا ایک شریک تسلیم کرے۔ روس کے صدر کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ماسکو نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ روسی صدر نے ہندوستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ میں یہ بات تاکید کے ساتھ کہتا ہوں کہ نئی دہلی اور ماسکو کے درمیان فوجی اور تکینکی تعاون ہندوستان کو مختلف فوجی ہتھیار بھیجنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس ملک میں روس  کی شرکت کے ساتھ مختلف طرح کا فوجی سازوسامان تیار کیا جا رہا ہے اور یہ ہتھیار جدید ترین ہیں۔ ہم نے ہندوستانی وزیر اعظم سے اتفاق کیا ہے کہ مستقبل میں بھی مشترکہ طور پر فوجی ہتھیاروں کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ہندوستان کی اسلحے کی منڈی میں زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے پر مبنی مغربی ملکوں خصوصا امریکہ کے رجحان کی وجہ سے روس مشترکہ فوجی تعاون کے سلسلے میں ہندوستان کو زیادہ مراعات دینے پر تیار ہوا ہے۔ اپنے ایٹمی اور روایتی حریف پاکستان کے مقابلے کے لئے ہندوستان دنیا میں ہتھیار خریدنے والا ایک بڑا ملک شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی منڈی میں داخل ہونے کے لئے ہتھیاروں کی خریداری اور فوجی تعاون میں توسیع ضروری ہے لیکن ہندوستانی حکومت کی یہ حکمت عملی برصغیر میں اور چین کے ساتھ بھی اسلحے کی دوڑ  میں شدت پیدا ہونے کا سبب بنی ہے۔  ہندوستان اور روس کے باہمی تعاون میں توسیع کا تعلق ہندوستان میں روس کی جانب سے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر سے بھی ہے۔ پیوٹن اور مودی کی ملاقات کے دوران روس کی شرکت کے ساتھ ہندوستان کے تیسرے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود نئی دہلی اور ماسکو کے باہمی تعلقات کی ایک کمزوری یہ ہے کہ روس سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے سلسلے میں ہندوستان کی توقعات پر پورا اترنے پر قادر نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان یورپ اور امریکہ کی جانب زیادہ مائل ہوا۔ ہندوستان کے اس رجحان کے طویل مدت میں دونوں ملکوں  کے فوجی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع پر ہندوستان کی تاکید کا ایک ہدف فوجی، میزائلی اور ایٹمی میدانوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں توسیع کی روک تھام کرنا ہے کیونکہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں توسیع سے خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی برّی فوج، فضائیہ اور بحریہ کے ہتھیار چونکہ روسی ساخت کے ہیں اس لئے ہندوستان ماسکو کے ساتھ فوجی تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ہندوستان کی رکنیت کے علاوہ برکس گروپ میں ہندوستان اور روس کی رکنیت  کی وجہ سے دونوں ملکوں کے لئے دو طرفہ اور چند طرفہ تعلقات  میں توسیع کا راستہ ہموار ہوا ہے۔