امام خمینی، ایک انقلابی، ثابت قدم اور مجاہد رہنما
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285410-امام_خمینی_ایک_انقلابی_ثابت_قدم_اور_مجاہد_رہنما
آج چودہ خرداد مطابق چار جون سنہ دو ہزار سترہ ہے اور آج اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی اٹھائیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ آج امام خمینی کے تمام عقیدت مند، آپ کے افکار و نظریات کی پیروی کرنے والے تمام افراد اور ایرانی قوم اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Jun ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۹ Asia/Tehran
  • امام خمینی، ایک انقلابی، ثابت قدم اور مجاہد رہنما

آج چودہ خرداد مطابق چار جون سنہ دو ہزار سترہ ہے اور آج اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی اٹھائیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ آج امام خمینی کے تمام عقیدت مند، آپ کے افکار و نظریات کی پیروی کرنے والے تمام افراد اور ایرانی قوم اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔

امام خمینی رح کا ایک اہم کارنامہ انقلابی نظریات کی ترویج ہے۔ آپ نے مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے ان کے اندر تسلط کے نظام کے مقابل ڈٹ جانے کی جرات پیدا کی۔ امام خمینی رح نے دھمکیوں سے نہ ڈرنے اور سامراجی طاقتوں کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے جیسے دو اہم اصولوں کی بنیاد پر ایران میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا۔ آپ نے حریت پسند اقوام کو بھی انہی دو اصولوں کا درس دیا جس کی وجہ سے یہ اقوام بھی اپنی آزادی اور خود مختاری کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ امام خمینی رح نے اپنے اس عظیم اقدام کے ذریعے دنیا کی اقوام کو بے شمار حقائق سے آگاہ کیا اور اپنی انقلابی تحریک کے دوران ثابت کر دیا کہ خود اعتمادی اور انقلابی جذبے کی بدولت عظیم مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں اور کامیابی کی چوٹیاں سر کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ بہت سے لوگ امام خمینی رح کی اس صفت کی بنا پر آپ کے گرویدہ ہیں کہ آپ نے تسلط کے نظام کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی جانب سے انقلاب اور امام خمینی رح کے ساتھ دشمنی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے۔

امام خمینی رح نے ایران میں شاہی حکومت اور بدعنوان نظام کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ آپ کبھی بھی دھمکیوں اور جلا وطن کئے جانے سے خوفزدہ نہیں ہوئے کیونکہ آپ حقیقی طور پر انقلابی تھے اور انقلابی ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔ آپ کی یہی صفت ایران میں عظیم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اور آپ کی یہی صفت آج ایک ایسے عالمی نمونۂ عمل میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے نہ صرف ایرانی قوم کی تقدیر بدل کر رکھ دی بلکہ انقلابی تحریکوں اور اسلامی بیداری کی عظیم تحریک کا راستہ بھی معین کر دیا۔

امام خمینی رح اپنی انقلابی تحریک کے سارے عرصے میں اپنے انقلابی مواقف پر ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہے اور ایران میں ظالم شاہی حکومت کے سیاسی گھٹن کے ماحول اور کٹھن حالات میں بھی آپ امریکہ کی سامراجی ماہیت اور خطےمیں اسرائیل کے مذموم مقاصد کو برملا کرتے رہے۔ امام خمینی رح تسلط کے نظام کی ماہیت کے بارے میں جو کچھ بھی فرمایا کرتے تھے آج وہ سب پر واضح ہوچکا ہے۔ اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کی وجہ امریکہ کی مداخلتوں اور عالمی طاقتوں کی توسیع پسندی کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت ہے۔ اسی لئے اسلامی انقلاب اور امام خمینی رح کی انقلابی تحریک کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثمرات شروع دن سے ہی منہ زور طاقتوں کی تشویش کا باعث بن گئے تھے اور سامراجی محاذ نے اس عظیم تحریک کی روک تھام کے لئے اپنا سارا زور لگا دیا لیکن ان کو اسلامی انقلاب کی بالیدگی اور ترقی و پیشرفت کی روک تھام میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اسلامی جمہوری نظام میں انقلابی اقدار کے تسلسل سے امام خمینی رح کے سیاسی اور انقلابی نظریات کے دوام کا پتہ چلتا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ چار عشروں کے دوران ایران کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیاں عائد کیں، سازش رچیں اور مختلف طرح کے بہانے بنائےاور موجودہ حالات میں بھی وہ ایران کے خلاف اتحاد وجود میں لا کر اسلامی جمہوری نظام کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے درپے ہے۔ لیکن ایرانی قوم نے رہبر انقلاب اسلامی کی مدبرانہ قیادت میں تسلط کے نظام کے مقابلے میں استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے ثابت کر دیا ہےکہ وہ امام خمینی رح کے انقلابی نظریات کو سامنے رکھ کر امام خمینی رح کے بتائے ہوئے راستے پر ہی گامزن رہے گی اور جب تک ایرانی قوم میں یہ جذبہ موجود رہے گا کوئی بھی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے۔