اقوام متحدہ، یمن میں سعودی سازشوں کا حامی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285420-اقوام_متحدہ_یمن_میں_سعودی_سازشوں_کا_حامی
یمن کی تحریک انصاراللہ نے، الحدیدہ بندرگاہ کا انتظام تیسرے فریق کو سونپے جانے کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تجویز کی سخت مذمت کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۵:۵۶ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ، یمن میں سعودی سازشوں کا حامی

یمن کی تحریک انصاراللہ نے، الحدیدہ بندرگاہ کا انتظام تیسرے فریق کو سونپے جانے کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تجویز کی سخت مذمت کی ہے۔

انصاراللہ یمن اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کی اس بارے میں تجویز کوغیر ذمہ دارانہ اور لاکھوں افراد کی بے عزتی قرار دیا ہے۔ تحریک انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں نے اعلان کیا ہے کہ یمنیوں کی افسوسناک صورتحال کو مزید تباہی کی جانب لے جانے والے اصلی عامل کے بارے میں اسماعیل ولد الشیخ کا نقطہ نگاہ غلط ہے- انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ پر کنٹرول کرنے میں سعودی اتحاد کے فوجیوں اور ایجنٹوں کی ناکامی کے باعث اقوام متحدہ نے یہ تجویز پیش کی ہے- ولد الشیخ احمد نے تجویز پیش کی تھی کہ الحدیدہ بندرگاہ کو تیسرے اور غیرجانبدار فریق کو سونپ دیا جائے یا پھر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہو- اقوام متحدہ کے ایلچی نے یہ تجویز ایسی حالت میں دی ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ یمن کی اہم ترین بندرگاہ ہے اور تقریبا اسّی فیصد غذائی اشیاء اور دواؤں کی کھیپیں اسی بندرگاہ سے عوام تک پہنچتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ تجویز، جو گذشتہ چند مہینوں کے دوران اس بندرگاہ پر تسلط کے لئے سعودی عرب کے منصوبوں اور سازشوں کی آئینہ دار ہے، ایک طرح سے  یمن کے عوام کے محاصرے میں شدت لانے کے لئے سعودی عرب کے اقدامات کو قانونی حیثیت دینے اور یمن میں سعودی عرب کے تسلط پسندانہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے - سعودی عرب نے الحدیدہ بندرگاہ سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا دعوی کرتے ہوئے اس علاقے کو فوجی علاقہ قرار دے دیا ہے اور اس بندرگاہ کو بند کرنے اور اسے تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے۔ الحدیدہ کو فوجی علاقہ اعلان کرنے سے سعودی عرب کا مقصد ، یمن کے عوام کے کنٹرول سے اس علاقے کو باہر نکالنا اور یمن کی قومی نجات حکومت پر دباؤ قائم کرنا ہے- سعودی عرب کی کوشش ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کو بند کرنے اور یمن کے اقتصادی محاصرے میں مزید شدت لانے کے ساتھ ہی اس ملک کی قومی نجات حکومت کو ایک ناکام حکومت ظاہر کرے تاکہ یمن میں اپنے اہداف کے حصول ، یعنی اس ملک میں اپنے ایجنٹوں اور کارندوں کو دوبارہ برسر اقتدار لانے کی راہ ہموار کرسکے-

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکی حمایت سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کے مستعفی اور مفرور صدر منصور ہادی کو برسر اقتدار لانے کے بہانے یمن پر فوجی حملے شروع کئے اور اس سرزمین کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ کرلیا۔ ان جارحانہ حملوں میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں- یمن میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی مداخلت کا، اس ملک میں آل سعود اور مغرب کی تسلط پسندانہ اور للچائی ہوئی نظروں کے تناظر میں جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے- یمن پر قبضہ یا اس کے دیگر بعض حصوں کو اپنی سرزمین میں شامل کرنا ہمیشہ ریاض کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے- اسی دائرے میں سعودی عرب نے یمن کے تین صوبوں عسیر، نجران اور جیزان پر اپنا تسلط کرلیا۔

ساتھ ہی یہ کہ سعودی عرب یمن میں اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں پرعمل کرتے ہوئے یمن کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے اور یمن کو کمزور اور اس کے حصے بخرے کرنے کے درپے ہے- ایسے حالات میں یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ عناصر، سعودی عرب کے ایجنٹوں کی حیثیت سے اس کوشش میں ہیں کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فورسیز کی مدد سے یمن کے عوام کو مزید سرکوب کرنے اور دباؤ بڑھانے کے ذریعے عوامی حکومت کے زیر انتظام یمنی علاقوں کو ان کے کنٹرول سے خارج کردیں۔ اقوام متحدہ بھی سعودی عرب کے جرائم کے مقابلے میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی منصوبے پیش کرکے یمن میں سعودی عرب اور مغرب کے علیحدگی پسندانہ اقدامات کو قانونی حیثیت دینے کے درپے ہے- اس درمیان جو چیز اقوام متحدہ نظرانداز کر رہی ہے یمن کے جنگ زدہ اور محاصرہ شدہ عوام کی ابتر صورتحال ہے کہ جو جنگ کے نتیجے میں روز افزوں مصائب و آلام  اور مختلف بیماریوں منجملہ ہیضہ جیسی بیماری سے دوچار ہیں۔