ٹرمپ اور امریکی عدلیہ میں کشمکش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285642-ٹرمپ_اور_امریکی_عدلیہ_میں_کشمکش
امریکی صدر نے اپنے ملک کے وزیر انصاف کو چند اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی ذمے داری سونپی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۶, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۳ Asia/Tehran
  • ٹرمپ اور امریکی عدلیہ میں کشمکش

امریکی صدر نے اپنے ملک کے وزیر انصاف کو چند اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی ذمے داری سونپی ہے۔

ٹرمپ سے پہلے کسی بھی امریکی صدر نے ایسا اقدام انجام نہیں دیا تھا۔ امریکہ میں چند اسلامی ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈر کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر لکھا ہے کہ وزارت انصاف پر لازم ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے کہے کہ وہ بعض اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے کی روک تھام کے مقصد سے فوری طور پر ایسا اقدام انجام دے جس سے اس ملک کی سلامتی کی ضمانت فراہم ہوتی ہو۔ امریکی صدر نےاس بات کو بیان کرتے ہوئے،  کہ امریکی عدالتیں بہت ہی سست رفتاری کے ساتھ کام کرتی اور سیاست بازی سے کام لیتی ہیں، کہا کہ ملک کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت ہر اس شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تحقیقات انجام دے گی جو امریکہ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ان کی جانب سے وزارت انصاف کو دیئے جانے والے حکم سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کو سپریم کورٹ میں اپنی جیت کے آثار کم ہی نظر آ رہے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیل گورسوچ کا نام سپریم کورٹ کے نئے رکن کے طور پر پیش کئے جانے کے ساتھ اس ادارے کا سیاسی اور نظریاتی پلڑا ایک بار پھر نیوکنزرویٹوز کے حق میں تبدیل ہوگیا ہے۔ امریکہ کی مختلف عدالتوں، اپیل کورٹس اور سپریم کورٹ میں نیوکنزرویٹو ججوں کی تعداد لبرل ججوں کی نسبت زیادہ ہونے کے باوجود عدالتوں میں ٹرمپ حکومت کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

اس وقت بعض اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے ایگزیکٹو آرڈر پر عملدرآمد ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے بہت زیادہ اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے ایک ہفتے کے بعد ایک حکمنامے پر دستخط کئے تھے جس کے مطابق سات اسلامی ممالک یعنی اسلامی جمہوریہ ایران، عراق، شام، یمن، صومالیہ، سوڈان اور لیبیا کے شہریوں پر امریکی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔جس کے بعد امریکہ میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ۔ امریکہ کے ہوائی اڈوں پر ان سات اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کے بارے میں کہ جن کے پاس امریکہ کی شہریت تھی اور ایسے افراد کے بارے میں کہ جن کے پاس امریکہ کا گرین کارڈ یا قانونی ویزہ تھا ہنگامہ ہونے کے بعد شہری حقوق کی تنظیموں اور بعض امریکی ریاستوں کے وکیلوں نے اس حکمنامے کے خلاف عدالت میں شکایت کردی اور انہوں نے ججوں کی مدد سے اس حکمنامے پر عملدرآمد رکوا دیا۔ اس مخالفت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے جس میں عراق کا نام ان سات ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا گیا اور گرین کارڈ ہولڈرز کے لئے بھی بعض سہولیات مدنظر رکھی گئیں۔ اس کے باوجود عدالتوں نے دوبارہ اس نئے فرمان پر عملدرآمد رکوا دیا جس کی توثیق اپیل کورٹ نے بھی کردی۔

اس کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو سپریم کورٹ میں معاملہ اٹھانے کی دھمکی دی۔ ان کو امید تھی کہ ملک کی عدالت عالیہ تارکین وطن کے خلاف حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرے گی۔ البتہ ابھی تک سپریم کورٹ نے اپنا حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔لیکن ایسا نظر آتا ہےکہ سپریم کورٹ کی جانب سے فوری طور پر فیصلہ صادر کئے جانے پر مبنی امریکی حکومت کی توقع پوری نہیں ہوئی ہے اور یہ بھی ممکن ہےکہ سپریم کورٹ ایسا فیصلہ صادر کر دے جو ٹرمپ کے لئے خوش آئند نہ ہو۔