ایران پر دباؤ میں شدت، ٹرمپ حکومت کی اولین ترجیح
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i285666-ایران_پر_دباؤ_میں_شدت_ٹرمپ_حکومت_کی_اولین_ترجیح
واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی مرکز نے پیشین گوئی کی ہے کہ خطے میں ایران مخالف اتحاد کے قیام کے بعد آئندہ ایک سال کے دوران اس ملک کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی محاصرے کے لئے اقدامات انجام دیئے جائیں گے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۶, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۳ Asia/Tehran
  • ایران پر دباؤ میں شدت، ٹرمپ حکومت کی اولین ترجیح

واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی مرکز نے پیشین گوئی کی ہے کہ خطے میں ایران مخالف اتحاد کے قیام کے بعد آئندہ ایک سال کے دوران اس ملک کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی محاصرے کے لئے اقدامات انجام دیئے جائیں گے۔

المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں قائم اسٹریٹیجی اسٹڈیز سینٹر مریڈین (Meridien) کے مشیر خالد صفوری نے اس ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے میں ایران کے کیس کے انچارج کے طور مائیکل دی آندرے کا نام پیش کئے جانے کے بارے میں کہا کہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے اور ٹرمپ حکومت نے ایران کے ساتھ دشمنی رکھنے والوں کو وائٹ ہاؤس، وزارت جنگ اور قومی سلامتی کونسل میں اکٹھا کیا ہے۔ اخبار ہافنگٹن پوسٹ نے بھی پیر کے دن اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے اس ہفتے کے دوران سی آئی اے میں ایران کے خلاف آپریشن کے شعبے کا سربراہ مقرر کر کے ایران کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر مبنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوشش کی حمایت میں ایک اور قدم آگے بڑھایا ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ سازشیں حقیقت سے کس حد تک نزدیک ہیں۔

امریکہ برسہا برس سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے اقدامات انجام دیتا چلا آ رہا ہے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد بھی اس نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے میں درج اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور وہ مسلسل ایران کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی اور ایران کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کی مخالفت کر رہا ہے۔ امریکہ کو اپنی اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دس برس قبل کی پوزیشن پر جانا پڑے گا۔ لیکن موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر امریکہ اب ایسا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ یورپی یونین، روس اور چین کی جانب سے امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کئے جانے نیز جرمنی اور فرانس جیسے بڑے یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ طویل المیعاد باہمی تعاون میں دلچسپی کے اظہار کی وجہ سے امریکہ اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ امریکہ دوسری حکمت عملی اختیار کر کے خطے میں ایران کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کرنے کے درپے ہے۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں اپنے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے دوران متعدد اسٹریٹیجک غلطیاں کی ہیں۔ ان کی پہلی غلطی ایسے چند قبائلی ممالک سے آس لگانا ہے جن کو اپنی اپنی حکومتوں کے قانونی ہونے کے حوالے سے بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔ اس لئے امریکہ اپنی حکمت عملی سے ان ممالک کو صرف لوٹ ہی سکتا ہے۔ اسی لئے ٹرمپ نے اپنے دورۂ سعودی عرب سے قبل ان ممالک کو دودھ دینےوالی گایوں سے تعبیر کیا تھا۔ امریکہ کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اسے دفاعی شعبے میں ایران کی صلاحیتوں اور خطے کی صورتحال میں ایران کے کردار کے موثر ہونے کا صحیح اندازہ ہی نہیں ہے۔ ٹرمپ کی تیسری غلطی خطے کی صورتحال اور خلیج فارس کے ساحلی عرب ملکوں کی قبائلی حکومتوں کے باہمی شدید اختلافات سے لاعلمی ہے۔ ان غلطیوں کے علاوہ کلائمیٹ چینج کے معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے اثرات نیز عالمی سطح پر امریکہ کو درپیش سلامتی کے بحرانوں جیسے چیلنجز کی جانب بھی اشارہ کیا جانا چاہئے جن کی وجہ سےایران کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل عملی طور پر ناممکن ہو چکی ہے۔ اب ایسا نظر آتا ہے کہ واشنگٹن میں دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ ٹرمپ حکومت میں موجود انتہا پسندوں کا ہے جس کی حمایت دائیں بازو کے صیہونی کرتے ہیں۔ اس نظریئےکا مقصد ایران کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال کو مخدوش بنانا ہے اور اس مقصد کو وہ خطےکے عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کر کے اور سیستان و بلوچستان جیسے ایران کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے نظریئے کا تعلق امریکی حکومت  اور کانگریس میں موجود ایسے دھڑوں  کے ساتھ ہے جن کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کرنے کی صورت میں امریکہ اور دوسرے ہر جارح کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ایران دندان شکن جواب دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکام نے موجودہ صورتحال میں ایرانوفوبیا پھیلانے اور  اربوں ڈالر کی مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب جیسے ممالک سے یہ آس لگا رکھی ہے کہ وہ خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی نیابتی جنگ لڑ کر ان کے مفادات کے حصول کا راستہ ہموار کریں گے۔ البتہ اس جنگ میں حتمی شکست خطے میں ان قبائلی حکومتوں کو ہوگی جن کو اپنے اپنے ملک میں عوامی پشت  پناہی حاصل نہیں ہے اور جو یہ خیال کرتی ہیں کہ وہ امریکہ کو تاوان ادا کر کے اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہیں۔