داعش مخالف امریکی اتحاد کی جارحانہ کارکردگی پر شام کا ردعمل
شام کی وزارت خارجہ نے امریکی قیادت میں داعش کے نام نہاد اتحاد کے اقدامات جاری رہنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کے حملوں کا نتیجہ، داعش کی تقویت کے سوا اور کچھ نہیں نکلا ہے-
شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی سرکردگی میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد کے جرائم ، رائے عامہ اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کے اقدامات پر واضح اور روشن دلیل ہیں- اس وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایک ایسے اتحاد کی قیادت کر رہا ہے کہ جو بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کے منشور اور شام سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے- یہ قراردادیں شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر تاکید کرتی ہیں-
امریکی قیادت والے اتحاد کے جنگی طیاروں نے حال ہی میں شمالی شام کے شہر رقہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے- اس حملے میں جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد عام شہری تھے - یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی قیادت میں دہشت گردی مخالف اتحاد نے حالیہ دنوں میں مشرقی حمص کے مضافاتی علاقے التنف میں شامی فوج کے خلاف حملے کئے ہیں-ان حملوں کے خلاف ہمیشہ شام کی حکومت اور انسانی حقوق کے اداروں نے احتجاج کیا ہے-
واضح رہے شام کا بحران مارچ دوہزار گیارہ میں سعودی عرب ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے توسط سے شام کے قانونی صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگوں کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کی حامی مغربی حکومتوں نے شام میں بہت زیادہ مداخلت پسندانہ اقدامات انجام دیئے ہیں- چنانچہ گزشتہ مہینوں کے دوران اور خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد، شام کے عوام اور فوج پر امریکہ کی سرکردگی میں دہشت گردی مخالف اتحاد کے حملوں میں شدت آئی ہے اور اس مسئلے سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ، شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی پر مصرہیں-
عالمی اداروں کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق نام نہاد داعش مخالف اتحاد، دہشت گردوں کے خلاف حملوں کے بجائے، عام شہریوں، شامی فوجیوں اور بنیادی تنصبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ داعش، جبھۃ النصرہ اور بعض دیگر دہشت گرد گروہوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے علاوہ، امریکی اتحاد کے اس قسم کے جارحانہ حملے شام میں افراتفری پھیلانے اور اسے تباہ کرنے کے مقصد سے انجام پا رہے ہیں-
امریکہ، شام کی سرزمین پر براہ راست فوجی کاروائی کرکے یا داعش مخالف نام نہاد اتحاد کے ذریعے، مختلف طریقوں سے شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کر رہا ہے- یہ ایسے میں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں کاروائی کرنے یا اپنے فوجی تعینات کرنے کے مقصد سے شام کی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے اور داعش مخالف امریکی اتحاد کی سرگرمیوں سے متعلق بھی کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے اور نہ ہی شام کے حکام نے امریکی حکومت سے اس طرح کی کوئی درخواست کی ہے-
کسی بھی ملک میں فوجی کاروائی کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شام میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد کی تشکیل کے لئے امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کے اقدام کے پیش نظر، بین الاقوامی سطح پر اس قسم کے اقدامات جاری ہیں جن سے عالمی امن و صلح کو شدید خطرات لاحق ہیں-
یہ ایسی حالت میں ہے امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں، شام میں امریکہ کی مداخلت پسندی میں مزید شدت آئی ہے- بلاشبہ ہر وہ اقدام جو ہٹ دھرمانہ، بین الاقوامی قوانین کے دائرے سے باہر اور ملکوں کے اقتدار اعلی کے احترام کے بغیر ہو، ان ملکوں کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے- داعش کا بہانہ، شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی اور شام میں امریکہ کے روز افزوں جنگی جرائم اور اس ملک کے عوام کے قتل عام کی پردہ پوشی نہیں کرسکتا -
شام کے بحران کا بنیادی سبب وہ تکفیری دہشتگرد ہیں جنہیں دنیا کے مختلف علاقوں سے شام بھیجا جار رہا ہے۔ ان دہشتگردوں کی وحشیانہ کاروائیوں میں اب تک دسیوں ہزار شہری جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔
یاد رہے شام میں جاری تکفیری فتنوں میں اربوں ڈالر کی بنیادی تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں۔ اس کےباوجود مختلف تکفیری دہشتگرد گروہ اور ان کے حامیوں کو شام میں کوئی ھدف حاصل نہیں ہوا ہے اور پانچ برس سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود اب سب لوگ اس بحران کو مفاہمت آمیز طریقے سے حل کرنے کی بات کرنے لگے ہیں۔