صیہونی حکومت کی مداخلتوں پر اقوام متحدہ کی تنظیموں کا ردعمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i286378-صیہونی_حکومت_کی_مداخلتوں_پر_اقوام_متحدہ_کی_تنظیموں_کا_ردعمل
فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے والی بین الاقوامی تنظیم (آنروا UNRWA ) نے کہا ہے کہ اس ادارے کے اختیارات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وابستہ ہیں اور کوئی بھی اس کے مشن میں مداخلت نہیں کرسکتا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۳ Asia/Tehran
  • صیہونی حکومت کی مداخلتوں پر اقوام متحدہ کی تنظیموں کا ردعمل

فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے والی بین الاقوامی تنظیم (آنروا UNRWA ) نے کہا ہے کہ اس ادارے کے اختیارات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وابستہ ہیں اور کوئی بھی اس کے مشن میں مداخلت نہیں کرسکتا۔

صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے اتوار کو یہ دعوی کرتے ہوئے کہ آنروا تنظیم اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات انجام دے رہی ہے اس تنظیم کو ختم کرنے اور اسے  توڑنے کا مطالبہ کیا ہے- آنروا کے ترجمان  سامی مشعشع نے فلسطینی پناہ گزینوں کے حالات کو بہتر بنانے اور ان کے مسائل کو حل کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے حل کا وقت آن پہنچا ہے-

اس سے قبل بھی آنروا نے، حکومت اسرائیل کا نام تاریخی پس منظر یا بیک گراؤںڈ نہ ہونے کے سبب فلسطینی بچوں کے تعلیمی نصاب سے نکال دیا ہے - اسی طرح کچھ عرصہ قبل آنروا کی درسی کتابوں اور نصاب میں ایسے نقشے بنائے گئے ہیں کہ جن میں اسرائیل کی جگہ فلسطین کا لفظ آیا ہے- فلسطین کا پرچم اس پر بنا ہوا ہے اور تل ابیب کی جگہ پر فلسطینی نام " تل الربیع" لکھا ہوا ہے- آنروا تنظیم اسی طرح ان گھرانوں کی، جو 2014 میں غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے، گھر کے کرائے میں ماہانہ  مدد کرتی ہے- یہ تنظیم  آٹھ دسمبر 1949 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے کے مقصد سے قائم کی گئی اور تقریبا پچاس لاکھ فلسطینیوں کو اردن، شام ، لبنان اور مغربی اردن کے مقبوضہ علاقوں میں امداد پہنچا رہی ہے-

صیہونی حکومت ، کہ جسے گذشتہ برسوں کے دوران بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں منجملہ آنروا  کی شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کوشش میں ہے کہ ان اداروں اور تنظیموں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے ان کو اپنی حکومت کے خلاف کسی بھی طرح کی تنقید سے باز رکھنے پر مجبور کردے- اسی تناظر میں صیہونی حکومت نے آنروا کو ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس مسئلے نے ایک بار پھر امریکی حمایت کے سائے میں اقوام متحدہ کے امور میں اس غاصب حکومت کی گستاخیوں کے مسئلے کو نمایاں کردیا ہے- اس طرح کے گستاخانہ رویے ہمیشہ صیہونی حکومت کے ایجنڈے میں رہے ہیں - غاصبانہ قبضے کا جاری رہنا اور توسیع پسندانہ اقدامات نیز صیہونی حکام کے توسط سے حقائق کو توڑمروڑکر پیش کرنا اس بات کا باعث بناہے ہے کہ رائے عامہ اس کے خلاف آواز اٹھائے چنانچہ آنروا کا صیہونی حکومت مخالف موقف بھی اسرائیل کی فریبکارانہ پالیسیوں پر ایک ردعمل ہے- اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے نقطہ نگاہ سے صیہونی حکومت ایک جعلی اور غیرقانونی حکومت ہے کہ جسے عالمی سطح پر کوئی مقبولیت اور مقام حاصل نہیں ہے  اور یہ مسئلہ ، اس حکومت کے ذریعے فلسطینیوں کے حقوق کے مکمل پامال کئے جانے کی غرض سےانجام پانے والے اقدامات اور رائے عامہ کو منحرف کرنے میں، اس غاصب حکومت کی ناکامی کا آئینہ دار ہے- 

صیہونی حکومت اسی طرح مختلف بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو، جو فلسطینیوں کو امداد پہنچانے میں سرگرم ہیں ، ختم کئے جانے کا راستہ فراہم کرنے کے ذریعے اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ  کسی طریقے سے فلسطینیوں کے حقوق پامال کئے جانے کے سلسلے میں عالمی احساسات و جذبات میں کمی لائے اور کسی حد تک بین الاقوامی گوشہ نشینی سے رہائی پا جائے-  فلسطینیوں کو امداد پہنچانے والے اداروں کو ختم کئے جانے کے لئے صیہونی حکومت کے اقدامات ایسے میں انجام پا رہے ہیں کہ فلسطینی عوام خاص طور پر پناہ گزینوں  تک امداد پہنچانے میں کسی بھی قسم کا خلل ممکن ہے کہ ان کے لئے انتہائی افسوسناک صورتحال پیدا کردے- اس طرح کے اقدامات کا عملی ہونا صیہونی حکام کی دیرینہ خواہش ہےکہ جو زیادہ سے زیاد فلسطینیوں کا قتل عام کرنا اور ان کی نسل کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں-

صیہونی حکومت اسی طرح مختلف اقدامات کے ذریعے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے سے رائے عامہ کو منحرف کرنے اور فلسطینیوں کی ان کے وطن واپسی کے مسئلے کو کہ جس پر اقوام متحدہ کی قرارداد 194 میں تاکید کی گئی ہے ، بے اثر بنانے کے درپے ہے- لیکن فلسطینیوں کے حقوق پر عالمی برادری کی ماضی سے زیادہ توجہ اور اقوام متحدہ کی تنظیموں کے خلاف صیہونی حکومت کے عائد کردہ الزامات کی مذمت اور مداخلتوں پر ان تنظیموں کا ردعمل اس امر کا غماز ہے کہ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے خلاف صیہونی حکومت کے پروپیگنڈے سے عالمی سطح پر اس غاصب حکومت کی مزید رسوائی ہو رہی ہے اور بین الاقوامی حقوق کے سلسلے میں اس حکومت کی ماہیت سب پر آشکارہ ہوتی جارہی ہے کہ جس کا نتیجہ اس حکومت کےعالمی سطح پر گوشہ نشیں ہونے کا باعث بن رہا ہے-