ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی، امریکی ہتھکنڈہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i286380-ایٹمی_معاہدے_کی_خلاف_ورزی_امریکی_ہتھکنڈہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دنیا یہ سمجھ گئی ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کو کون پروان چڑھا رہا ہے اور دہشت گردی کا سرچشمہ کہاں ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے اور اس راہ میں کتنی قربانیاں دی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۳ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی، امریکی ہتھکنڈہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دنیا یہ سمجھ گئی ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کو کون پروان چڑھا رہا ہے اور دہشت گردی کا سرچشمہ کہاں ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے اور اس راہ میں کتنی قربانیاں دی ہیں۔

عراقچی نے اتوار کے روز مشترکہ جامع ایکشن پلان کی شقوں 26 سے 29 تک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اور تعمیری ماحول میں اس پر عمل کرے اور ہر وہ اقدام جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کے کامیابی کے ساتھ عملدرآمد پر اثرانداز ہو اس سے اجتناب کرے- امریکہ کا ایک سناریو ٹرمپ کے دور حکومت میں یہ ہے کہ ایٹمی معاہدے کے ضمن میں بے بنیاد دعووں اور الزامات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھائے- امریکیوں کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی کئے بغیر اس سے عبور کرسکتے ہیں- صرف ماضی سے جو فرق ہے یہ ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے خلاف تنقیدوں میں کمی لانے ، اور ایٹمی معاہدے کے دائرۂ کار سے باہر، ایران پر دباؤ ڈالنے میں کوشاں ہے  ، لیکن اسے اس مسئلے میں بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کی ضرورت ہے-

موجودہ حالات میں ٹرمپ کہ جو کمزور پوزیشن کے ساتھ برسراقتدار آئے ہیں اگر وہ چاہیں کہ سلامتی کونسل کے دائرۂ کار سے باہر نکل کر ایٹمی معاہدے کے بارے میں کوئی اقدام کریں تو انہیں سخت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا- کیوں کہ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور امریکہ ، ایٹمی مسئلے میں مذاکرات کا صرف ایک فریق ہے کہ جو بعض تحفظات کی بنیاد پر ایران اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آیا  - ان تحفظات میں سے ایک ، ایران کے خلاف پابندیوں کا بے نتیجہ ہونا اور ایران کے خلاف پابندی جاری رکھنے میں، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کا امریکہ کا ساتھ نہ دینا تھا- ایک اور نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن  نہ ہونے کے حوالے سے، کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور اس حقیقت کی امریکہ کے سولہ انٹلی جنس اداروں نے تصدیق بھی کی ہے-

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے بھی اپنی رپورٹوں میں مسلسل یہ ثابت کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام آئی اے ای اے کے قوانین کے دائرے میں اور این پی ٹی معاہدے کے مطابق انجام پائے ہیں اورپرامن ہیں۔ اس بناء پر امریکہ کے پاس مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دائرے میں ایٹمی مذاکرات میں شامل ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا- اس لئے امریکہ اپنے اس سیاسی کھیل کو جاری رکھنے کے لئے، بس یکطرفہ اقدامات انجام دے سکتا اورغیر ایٹمی پابندیاں برقرار رکھ سکتا ہے- اس کے ساتھ ہی امریکی حکام نے دومسئلے پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اس میں سے اول یہ ہے کہ وہ مطمئن ہوجائیں کہ کس حد تک  انہیں اس سلسلے میں ملکی سطح پر سیاسی اتفاق رائے حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کے خلاف روز افزوں مخالفتوں اور امریکی وعدہ خلافیوں سے لاحق تشویش کے پیش نظر اس طرح کا اجماع اور اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے-

اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ  مطمئن ہوجائے کہ وہ  ایران مخالف اپنے اقدامات کے سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والی مخالفتوں کا جواب دہ ہونے پر قادر ہے اور یہ کہ پابندیوں کے آپشن کی جانب دوبارہ بازگشت کیا اس بار امریکہ کے الگ تھلگ ہونے کا سبب نہیں بنے گی ؟ - جبکہ ان میں سے بعض پابندیوں سے، قانونی اور اسٹریٹیجک مخالفت ہوتی ہے کہ جو ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں یعنی یورپی یونین ، روس اور چین کے لئے اہمیت رکھتی ہیں- اس لئے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی اقدامات کو ممکن ہے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک اسٹریٹیجک فیصلہ قرار دیا جائے لیکن بہرصورت اس کی ماہیت ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے کہ جو ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے کہ جس کا امریکہ کو جواب دہ ہونا چاہئے-