ایران اور افغانستان کے اسٹریٹیجک مذاکرات
افغانستان کے اعلی سفارتکاروں اور حکام کا ایک وفد ایرانی حکام کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کرنے کی غرض سے تہران آیا ہے۔ ان مذاکرات میں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام، دہشت گردی کے مقابلے، افغان پناہ گزینوں کے امور اور سیکورٹی جیسے مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے حالیہ دورۂ کابل کے موقع پر ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ دونوں ممالک سیکورٹی، اقتصاد، فارنرز، ثقافت اور پانی کے سلسلے میں پانچ مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دیں گے اور اسٹریٹیجک کوآپریشن کی ایک دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دونوں ممالک کے باہمی اسٹریٹیجک کوآپریشن کی سطح بڑھنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اہم اور بڑے مسائل میں دونوں ممالک کے درمیان اشتراک عمل کی بہت زیادہ گنجائش پائی جاتی ہے۔ اس طرح کا باہمی تعاون جب دو ہمسایہ ممالک کے درمیان ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہیں۔ افغانستان میں برسہا برس سے غیر ملکی فوجی موجود ہیں جس کی وجہ سے اس ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بدامنی کی وجہ سے اس ملک کے ساتھ تعاون کے بہت سے مواقع ضائع ہوگئے ہیں۔ اقتصادی سرگرمیوں کے لئے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورتحال بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کو منشیات کی پیداوار کا بھی بہت عرصے سے سامنا ہے اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کا جاری رہنا افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران بھی افغانستان کے ایک ہمسائے کے طور پر تمام کٹھن حالات میں افغانستان کے عوام اور اس ملک کی عوامی حکومتوں کا حامی رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دو سال قبل افغان صدر محمد اشرف غنی سے تہران میں ملاقات کے موقع پر ایران اور افغانستان کے باہمی اتحاد اور تعاون کی تقویت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پناہ گزینوں، پانی ، نقل و حمل اور سیکورٹی جیسے تمام مسائل حل کئے جاسکتے ہیں اور یہ تمام مسائل سنجیدگی کے ساتھ اور ایک مقررہ ٹائم فریم کے مطابق حل کئے جانے چاہئیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تہران کو افغان بھائیوں کا گھر قرار دیا اور ہمسایہ حکومت کے ساتھ دیرینہ اور پائیدار دوستی اور تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کی حکومت اور قوم کی کامیابیوں اور صلاحیتوں میں آئے دن اضافہ ہوگا۔ ہمسایوں کے ساتھ افغانستان کے تعلقات میں تقویت اور مشترکہ خطرات کا مل کر مقابلہ کرنا ایک ایسا اصول ہے جس کا ایران اپنے آپ کو پابند جانتا ہے۔ اس سلسلے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مقابلے کو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا ایک اہم معیار قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ باہمی تعاون اجتماعی سیکورٹی اور استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ افغانستان کی سیکورٹی اور ترقی و پیشرفت کو اپنی سیکورٹی اور ترقی و پیشرفت سمجھتا ہے اور اس ملک کے استحکام اور سیکورٹی کو خطے کے اجتماعی استحکام اور سیکورٹی کا حصہ جانتا ہے۔
ایران اور افغانستان اپنی صلاحیتوں کے پیش نظر سیکورٹی کے میدان کے علاوہ اقتصادی میدان مثلا نقل و حمل میں باہمی تعاون میں توسیع لا سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال چابہار بندرگاہ سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں ایران، افغانستان اور ہندوستان کا سہ فریقی باہمی تعاون ہے۔ اس سلسلے میں توانائی کی ضروریات پورا کرنے اور روس، چین اور بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک اور وسطی ایشیا کے ممالک جیسے ملکوں کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری وغیرہ کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت ایران اور افغانستان باہمی تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں پرعزم ہیں۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ آپس میں طے پانے والے سمجھوتوں کو عملی جامہ پہنایا جائے اور دونوں ممالک کے حکام بھی ان کی حمایت کریں۔ ان تمام میدانوں اور معاہدوں کے بارے میں فیصلہ کرنا دونوں ممالک کے تعلقات کی سطح کے بارے میں بہت موثر ہیں۔ تہران کے اسٹریٹیجک تعلقات کو اس ہدف تک رسائی کے سلسلے میں ایک اچھا آغاز سمجھا جاسکتا ہے۔