ایران کی میزائلی صلاحیت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i288994-ایران_کی_میزائلی_صلاحیت
رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے اور ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے اتوار کے دن مشہد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران داعش پر ایران کے میزائل حملے سے متعلق پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کی مقامی میزائل صلاحیت اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی ایک بنیاد شمار ہوتی ہے اور ایران اپنی ضرورت کے مطابق برسہابرس سے اپنی دفاعی صلاحیت نیز میزائلوں کی رینج اور ٹھیک نشانے پر لگنے کی ان کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۳, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۲ Asia/Tehran
  • ایران کی میزائلی صلاحیت

رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے اور ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے اتوار کے دن مشہد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران داعش پر ایران کے میزائل حملے سے متعلق پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کی مقامی میزائل صلاحیت اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی ایک بنیاد شمار ہوتی ہے اور ایران اپنی ضرورت کے مطابق برسہابرس سے اپنی دفاعی صلاحیت نیز میزائلوں کی رینج اور ٹھیک نشانے پر لگنے کی ان کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کچھ عرصہ قبل ایران کی نالج بیسڈ، مقامی اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کا معائنہ کرنے کے موقع پر دفاعی طاقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ایک ایسی دنیا میں کہ جہاں منہ زور، تسلط پسند اور انتہائی بے ضمیر اور اخلاق و انسانیت سے بے بہرہ ایسی طاقتیں حکمفرما ہیں جو بے گناہ انسانوں کے قتل عام اور مختلف ممالک کے خلاف جارحیت سے باز نہیں آتی ہیں دفاعی اور جارحانہ صنعتوں میں توسیع ایک فطری بات ہے کیونکہ جب تک یہ طاقتیں ملک کی طاقت کو محسوس نہیں کریں گی تب تک سیکورٹی کی ضمانت نہیں ہوگی۔

اس وقت ایران اس قدر دفاعی حتی حملے کی طاقت کا حامل ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے خطے کو بدامنی کا شکار بنانے والوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔  ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے شام کے علاقے دیر الزور میں دہشت گرد گروہ داعش کے گڑھ پر ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران ہر خطرے کا شدید ترین جواب دے گا۔

بعض سیاسی مبصرین نے تہران میں سات جون کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو ایران کی سیکورٹی کے لئے ایک چیلنج قرار دیا تھا۔ ایران نے ان حملوں کا سخت جواب دیا اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے فرض کی بنیاد پر مشرقی شام میں واقع دیر الزور میں دہشت گرد گروہ داعش کے گڑھ پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے چھ میزائل داغے اور ثابت کر دیا کہ سلامتی اور دفاعی صلاحیت ایران کی ریڈ لائن شمار ہوتی ہے اور ایران اپنی سلامتی کے دفاع کے لئے کسی سے اجازت حاصل نہیں کرتا ہے۔

مجموعی طور پر میزائلوں کی چار اقسام ہیں۔ اول فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل۔

دوم: فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل

سوم: زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل

اور چہارم: زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل۔

ان میں سے ہر ایک کی رینج، ایندھن، وارہیڈ اور گائیڈنگ کی نوعیت کے اعتبار سے مزید چند اقسام ہیں۔ ان اقسام میں سے کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل کو اسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہے۔

سجیل ایران کا دور تک مار کرنے والا ایسا اولین میزائل ہے جس میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ بعض ماہرین اسے ایران کا سب سے بہتر بیلسٹک میزائل قرار دیتے ہیں۔یہ میزائل تقریبا دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔بیلسٹک میزائلوں میں ایران کے شہاب میزائلوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنائےجانے والے مشہور میزائلوں کے زمرے میں قرار دیا جاسکتا ہے۔ شہاب چار میزائل تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرسکتا ہے ۔ یہ پہلا ایسا ایرانی میزائل ہے جسے سیٹیلائٹ لے جانے اور اسے مدار میں قرار دینے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ شہاب چار میزائل میں لائی جانے والی تبدیلیاں کاوشگر ایک نامی ایرانی اسپیس شٹل تیار کئے جانے پر منتج ہوئی ہیں۔ ایران کا حوت نامی میزائل بھی دنیا کا ایسا تیز ترین سمندری میزائل ہے جو ریڈار پر نظر نہیں آتا ہے۔ اس میزائل کی رفتار امریکہ کے اس میزائل سے تین گنا زیادہ ہے جس پر امریکی فخر کرتے ہیں۔

صیہونی حکومت کے یروشلم سینٹر فار پبلک افیئرز نے ، کہ جو اسٹریٹیجک خطرات کے بارے میں اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے، ایران کی اعلی سطح کی میزائل صلاحیت کا اعتراف کیا ہے۔ اس سینٹر نے انٹرنیٹ پر ایک نقشہ جاری کرنے اور ایرانی میزائلوں کی رینج کا دائرہ واضح کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ گیارہ ہزار پانچ سو کلومیٹر تک مار کرنے کی رینج کے ساتھ ایران کے میزائل نیویارک تک  پہنچ سکتے ہیں۔

موجودہ حالات میں ایران کے ارد گرد اور بین الاقوامی سطح پر گوناگوں خطرات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی کی تعریف کا دائرہ بھی بڑھ گیا ہے۔البتہ ایران نے کبھی بھی کسی ملک کے خلاف جارحیت کا نہیں سوچا ہے البتہ وہ کسی بھی طرح کے خطرے کا جواب دینے اور اسے دور کرنے کے بارے میں ایک لمحے کے لئے بھی شک کا شکار نہیں ہوگا۔ اس لئے اس نے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علمی معیارات کے مطابق اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران اب میزائل ٹیکنالوجی میں یہ صلاحیت حاصل کر چکا ہےکہ وہ ہر رینج تک مار کرنے والے اور ٹھیک نشانے پر لگنے والے میزائل بنا سکتا ہے اور یہ عظیم چیز دشمنوں کے مقابلے میں ایک فیصلہ کن دفاعی صلاحیت شمار ہوتی ہے۔