بین الاقوامی مسائل میں ایرانی عدلیہ کے عمل دخل کی ضرورت
رہبر انقلاب اسلامی نے پابندیوں اور دنیا کے مظلوموں اور مسلمانوں کے دفاع جیسے بین الاقوامی مسائل میں ایران کی عدلیہ کی قانونی مداخلت و پیروی کو اہم قرار دیتے ہوئے تاکید فرمائی ہے کہ عدلیہ مختلف موضوعات کے بارے میں اپنا قانونی موقف بیان کر سکتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ اور حکام نے پیر کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں بین الاقوامی مسائل میں قانونی طریقے سے مداخلت اور پیروی کئے جانے کی ضرورت پر تاکید فرمائی ہے۔
آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ عدلیہ کو چاہئے کہ ایران کے خلاف پابندیوں، امریکہ کی جانب سے ایران کے اثاثے ضبط کئے جانے، دہشت گردی، اور اسی طرح نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی جیسی دنیا کی مظلوم شخصیات کی حمایت، نیز میانمار اور کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت کے مسئلے میں قانونی نقطہ نظر سے داخل ہو اور اپنی حمایت و مخالفت کا ٹھوس طریقے سے اعلان کرے تاکہ دنیا میں اس کا انعکاس ہو سکے۔
عدلیہ ہر ملک کے بڑے مسائل میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کا موقف فیصلوں کی حمایت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں موثر ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح سیاسی میدان میں ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کی حمایت کرتا ہے اسی طرح وہ قانون اور حقوق سے تعلق رکھنے والے امور کے بارے میں اپنے مواقف پیش کر کے عدالتی اعتبار سے منہ زوروں کے اقدامات کی شدت کو دنیا والوں کے سامنے بیان کرے گا۔ اگر قانون اور حقوق سے متعلق موقف کا عملی طور پر کوئی اثر نہ بھی ہو تب بھی عالمی رائے عامہ میں اس کا اجاگر کیا جانا ہی موثر ہوتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات کے قانونی اور عدالتی پہلووں کا جائزہ لینا ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے جس پر رائے عامہ کی توجہ ہے لیکن تسلط پسند طاقتیں بین الاقوامی اداروں کو اپنے آلۂ کار کے طور پر استعمال کر کے اپنی مفادات حاصل کرتی ہیں حالانکہ ان طاقتوں کے اقدامات کا جائزہ عدالتوں میں نہیں لیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے سے متعلق امریکی حکومت کی پالیسی سیاسی اعتبار سے سب پر واضح ہے۔ یہ ملک دہشت گردی کو اپنے مفادات کے حصول کے حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کے سلسلے میں امریکہ نے جو اقدامات انجام دیئے ہیں ان کا جائزہ لینے کی بہت اہمیت ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کےنام پر امریکیوں نے عراق اور شام میں جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور جنگ یمن میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ جو تعاون کیا ہے وہ ایک اہم موضوع ہے جس کا جائزہ لئے جانے کی بہت اہمیت ہے تاکہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں پر ایسی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے جو آزاد بھی اور انصاف کرنے والی بھی ہو اور عالمی رائے عامہ کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ ان مظالم کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنا عالمی رائے عامہ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے اور مظالم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلانا ایک اخلاقی اور انسانی فرض ہے اور جن پر ظلم کیا گیا ہے ان کے حقوق کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنا ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے۔
امریکہ کے ہاتھوں ایرانی عوام کی دولت ضبط کئے جانے اور ایران پر پابندیاں لگائے جانے کے مسئلے کا جائزہ لینا ایک اور ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں ایران کی عدلیہ امریکی عدالتوں کے مقابلے میں اپنا فیصلہ جاری کر سکتی ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو پتہ چل سکے کہ کیا امریکی عدلیہ کا ایران مخالف اقدام حقیقت سے میل کھاتا ہے؟ امریکہ کے ایران مخالف اقدامات کی پیروی سے سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ امریکہ کے ان اقدامات کی وجہ ایرانی عوام کے ساتھ امریکیوں کی دشمنی ہے۔
مظلوموں خصوصا مختلف علاقوں منجملہ میانمار اور کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت بھی رہبر انقلاب اسلامی کی توجہ کا مرکز رہی ہے تاکہ ایران کی عدلیہ ان مسائل میں حصہ لے کر ان کے بارے میں اپنا موقف بیان کرے جس سے دنیا والے آگاہ ہوسکیں۔ میانمار کے مسلمانوں کی صورتحال بہت ہی پیچیدہ اور تکلیف دہ ہے۔ یہ مسلمان اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں اور ضروری ہے کہ اس موضوع کا سیاست بازی سے دور رہتے ہوئے اس کے قانونی پہلو سے جائزہ لیا جائے اور اس کی توقع ایسی عدالتوں سے ہی رکھی جاسکتی ہے جو آزاد ہوں اور عدل انصاف سے کام لینے والی ہوں۔