عراق میں داعش کی نابودی اور امریکہ کی نئی سازشیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i289116-عراق_میں_داعش_کی_نابودی_اور_امریکہ_کی_نئی_سازشیں
عراق میں موصل آپریشن اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے، دہشت گرد گروہ داعش اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور سب کی توجہ عراق میں داعش کی نابودی کی جانب مبذول ہوچکی ہے۔ عراق کے سیاسی حلقوں نے اس موقع پر امریکہ کی نئی سازش کی خبر دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۰:۴۴ Asia/Tehran
  • عراق میں داعش کی نابودی اور امریکہ کی نئی سازشیں

عراق میں موصل آپریشن اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے، دہشت گرد گروہ داعش اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور سب کی توجہ عراق میں داعش کی نابودی کی جانب مبذول ہوچکی ہے۔ عراق کے سیاسی حلقوں نے اس موقع پر امریکہ کی نئی سازش کی خبر دی ہے۔

امریکہ کے سیاسی حلقوں اور حکام نے مختلف صورتوں منجملہ امریکی قیادت میں نام نہاد داعش مخالف اتحاد کی صورت میں عراق میں امریکی فوجیوں کے باقی رکھے جانے کو ضروری قرار دیا ہے جو کہ بجائے خود ایک سازش ہے اور عراقیوں نے اس کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

امریکیوں کی جانب سے اس طرح کی باتیں سامنے آنے کے بعد عراق کی مجلس اعلی اسلامی کے سربراہ عمار حکیم نے زور دے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کی حتمی شکست کے بعد کوئی بھی غیر ملکی فوجی اڈا یا غیر ملکی فوجی عراق میں باقی نہیں رہے گا۔

رواں سال انتیس جون کو جامع مسجد النوری کی آزادی کے ساتھ ہی موصل پر داعش کا قبضہ ختم ہوگیا ۔ دہشت گرد گروہ داعش کے سرغنے ابوبکر بغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان اسی مسجد میں کیا تھا۔ عراق کے فوجی موصل کے قدیم حصے میں داعش کے زیر قبضہ باقی ماندہ بہت کم علاقوں کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بعد وہ اپنی فتح کا جشن منائیں گے۔

یہ بات مسلّم ہے کہ عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی نے دہشت گردوں کو شکست دینے میں اصل کردار ادا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق نے اپنی اسی داخلی صلاحیت کے ذریعے دہشت گردی کو شکست دینے کے سلسلے میں عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ عراق نے دہشت گرد گروہ داعش پر فتح حاصل کر لی ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی حکام کہا کرتے تھے کہ داعش پر فتح پانے کے لئے طویل مدت درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ امریکی حکام داعش کے مقابلے کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کرتے تھے۔ جس سے امریکہ کا یہ مقصد کھل کر سامنے آیا ہے کہ امریکہ داعش کو حتمی شکست سے بچانا اور اس دہشت گرد گروہ کو اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ لبنان کے صحافی ناصر قندیل نے لبنان سے شائع ہونےوالے اخبار البناء سے گفتگو کرتے ہوئے موصل میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی کے بعد عراق کی مستقبل کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی کے بعد عراق اور شام میں امریکہ کی موجودگی کا جواز باقی نہیں رہے گا، داعش مخالف اتحاد کا مشن بھی ختم ہوجائے گا اور دہشت گردی کا مقابلہ دوسری صورتوں میں کیا جائے گا اور ان دونوں ملکوں میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں بھی کہ جب عراق میں داعش کی حتمی شکست بہت قریب ہے، امریکہ کو عراق میں اپنے منصوبے خاک میں ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور وہ عراق میں نئی سازشوں میں مصروف ہوگیا ہے تاکہ دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی کے بعد عراق میں اپنی فوجی موجودگی اور اس ملک کے داخلی امور میں اپنی بڑھتی ہوئی مداخلت کو جاری رکھ سکے۔امریکہ یہ اقدامات ایسی حالت میں انجام دے رہا ہے کہ جب امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ عراق میں قتل عام، بدامنی ، فرقہ واریت اور دہشت گردی پھیلنے سمیت منفی اثرات کے سوا اور کچھ  برآمد نہیں ہوا ہے۔ عراقی عوام کو امریکی قیادت میں تشکیل پانے والے نام نہاد داعش مخالف اقدامات کے منفی نتائج کا اب تک سامنا ہے۔ اعداد و شمار سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس اتحاد کے حملوں میں سیکڑوں عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور عراق کی بنیادی تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں۔

عراق سے متعلق امریکہ کی کارکردگی سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہےکہ وہ خطے کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے درپے ہے۔ امریکہ نے سنہ دو ہزار تین میں عراق پر قبضہ کیا اور رائے عامہ کے دباؤ کی وجہ سے اسے سنہ دو ہزار گیارہ کے آخری ایام میں عراق سے مجبورا اپنے فوجی نکالنا پڑے۔ اب اس نے عراق کے داخلی امور میں اپنی مداخلت میں اضافے کے لئے اپنی سازشوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ امریکہ کی مخاصمانہ کارکردگی کے پیش نظر ہی خطے کی رائے عامہ اور عراقی عوام کو اس پر اعتماد نہیں ہے اور وہ امریکہ کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف  اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔