یورپی کمپنیاں ایران میں سرمایہ کاری کی خواہاں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i289128-یورپی_کمپنیاں_ایران_میں_سرمایہ_کاری_کی_خواہاں
ایران کی تیل کی قومی کمپنی اور فرانس کی تیل کی کمپنی ٹوٹل کے بین الاقوامی کنسورشیم نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے گیارہویں فیز میں توسیع کے سلسلے میں تہران میں چار ارب آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۷ Asia/Tehran
  • یورپی کمپنیاں ایران میں سرمایہ کاری کی خواہاں

ایران کی تیل کی قومی کمپنی اور فرانس کی تیل کی کمپنی ٹوٹل کے بین الاقوامی کنسورشیم نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے گیارہویں فیز میں توسیع کے سلسلے میں تہران میں چار ارب آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

ایران کے وزیر پیٹرولیم بیژن زنگنہ کی موجودگی میں ایران کے تیل کی قومی کمپنی کے  ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی کاردر، فرانس کی ٹوٹل کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹریک پویانہ چین کی قومی کمپنی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لو (LU) اور پیٹرو پارس کمپنی کے ڈائریکٹر عزت اللہ اکبری نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔ ٹوٹل کمپنی نے سنہ دو ہزار نو میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کےگیارہویں فیز میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کئے تھے لیکن فرانس چونکہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں یورپی یونین کے شرکا میں شامل ہوگیا تھا اور یہ پابندیاں چونکہ تیل کے بائیکاٹ کی صورت میں بھی تھیں اس لئے ٹوٹل کو ایران میں اپنے منصوبوں سے دستبردار ہونا پڑا۔

اسلامی جمہوریہ ایران رواں سال کے دوران روس کی لوک آئل اور ڈنمارک کی مائرسک   (maersk) جیسی تیل کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنا چاہتی ہے۔ دریں اثناء چین کی تیل کی قومی کمپنی سی این پی سی بھی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے گیارہویں فیز میں توسیع کے سلسلے میں ایران کی اسٹریٹیجک شریک ہے۔

ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے گیارہویں فیز میں توسیع کے معاہدے پر عملدرآمد کے ساتھ ایران قطر کے ساتھ مشترکہ ایک گیس فیلڈ سے روزانہ چھپن مکعب میٹر مزید گیس حاصل کر سکے گا۔

فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ  ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے گیارہویں فیز کی توسیع میں شرکت سے ایک پرکشش تجارتی کام شروع ہوا ہے۔

سرمایہ لگانے والی کمپنیوں کے لئے اس معاہدے کے پرکشش ہونے میں تو کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہے۔ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ ہے جو ایران اور قطر کی مشترکہ سرحد پر واقع ہے۔ اس فیلڈ میں چودہ ٹریلین مکعب میٹر گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ متعدد غیر ملکی کمپنیوں نے اس بارے میں مشاورت کا ماضی سے آغاز کر دیا تھا۔ فرانس کی ٹوٹل کمپنی بھی تیل اور گیس کے شعبے میں سرگرم کمپنی کے طور پر ایران میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ فرانس کی اس بڑی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے تعاون کے خواہاں ہیں جس میں دونوں کا فائدہ ہو اور وہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ ایران منتقل کرنے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔

ایران میں تیل کی صنعت کو چھٹے ترقیاتی منصوبے کے دوران دو سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور جس میں تیل اور گیس کے شعبے کا حصہ ایک سو تیس ارب ڈالر ہے۔ لیکن اس ہدف کے حصول کے لئے بعض ضروری کام کرنا ہوں گے اور بعض چیلنجز کا بھی سامنا کرنا ہو گا جن میں تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری اور شرکت کے معاہدوں کی نوعیت بھی ایک ہے۔

ایران میں ٹوٹل کمپنی کے نمائندے اریک کنہ نے کچھ عرصہ قبل شانا  سے گفتگو کے دوران ایران کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اور ماہر اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران ڈاؤن سٹریم (downstream) میں ترقی کے لئے کافی صلاحیتوں کا حامل ہے اور وہ خطے اور دنیا میں پیٹروکیمیکل مصنوعات بنانے والے ایک بڑے ملک میں تبدیل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

دریں اثناء ٹوٹل کے نمائندے نے ایران کے ساتھ بین الاقوامی کمپنیوں کو درپیش بعض مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پابندیوں میں کمی آگئی ہے لیکن ایران میں سرمایہ کاری کے لئے سرمائے کی منتقلی ابھی تک ایک مسئلہ ہے۔

ان حالات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کیا جانا ایک اور پیغام کا حامل  ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت ہوا ہے کہ جب امریکہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگا کر ایک اتحاد قائم کرنے کے درپے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے یورپی ممالک ایران کے ساتھ تعاون میں پہل کی ہے اور یہ ممالک اس سلسلے میں امریکہ کی غیر منطقی پالیسی سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن ایک مشکل یہ ہے کہ یورپی کمپنیاں تضاد کا شکار ہیں ایک جانب وہ ایران کی منافع بخش منڈی میں واپسی کی خواہش رکھتی ہیں اور دوسری جانب امریکہ کے ایران مخالف پروپیگنڈہ کے سلسلے میں وہ امریکہ کا ساتھ دیتی ہیں اور یہ ممالک دہشت گردی کے بارے میں دوہرا رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ فرانس میں حال ہی میں منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او کی ایک کانفرنس بلائی گئی۔

  یہ ایک طرح کا دوہرا رویہ ہے جو یقینا طویل المیعاد باہمی تعاون کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے۔