سعودی حکام عراقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے درپے
عراقی وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب قطر کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
عراق کی الدعوہ پارٹی کے رہنما جاسم البیاتی نے اتوار کے دن عربی اکیس خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی عرب حیدرالعبادی پر دباؤ ڈال رہا ہے اور سعودی حکام عراقی وزیر اعظم کے ساتھ سودے بازی کر رہے ہیں کہ وہ داعش کے قبضے سے آزاد ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے عوض قطر کے خلاف موقف اختیار کریں۔
اس سے قبل قطر کے ساتھ سعودی عرب کی سیاسی اور اقتصادی جنگ کے دوران سعودی حکام نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ عراقی وزیر اعظم کا دورۂ ریاض چودہ جون کو انجام پائے۔ لیکن حیدر العبادی نے سعودی حکام کو نفی میں جواب دیا۔ عراقی وزیر اعظم آخرکار پانچ دنوں کے بعد انیس جون کو سعودی عرب گئے تاکہ اس دورے کو قطر کا محاصرہ اور مقابلہ کرنے والے چار عرب ممالک کی پالیسیوں کے ساتھ حیدر العبادی کی ہم آہنگی نہ سمجھا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال بیس مئی کو سعودی عرب کا دورہ کیا لیکن ریاض کا مقصد اس دورے سے حاصل نہ ہوسکا۔ جس کے بعد قطر کو سیاسی اور اقتصادی یلغار کا نشانہ بنا دیا گیا کیونکہ اس نے سعودی عرب کی آواز میں آواز ملانے سے انکار کر دیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب سے اس ملک کے حکام کا مقصد یہ تھا کہ امریکی صدر ایران مخالف بظاہر عرب اتحاد کی حمایت کریں۔لیکن قطر، کویت، عمان اور عراق کی جانب سے اس اتحاد کی حمایت نہ کیا جانا سعودی حکام کی بہت بڑی شکست سمجھی جاتی ہے۔
اخبار الرای الیوم نے اس سلسلے میں چند دن قبل سعودی عرب اور قطر کی خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے مقالے میں لکھا تھا کہ مختلف مسائل کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسی سے اس ملک کے موجودہ حکام کی سیاسی ناپختگی اور ناتجربہ کاری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہےکہ سعودی عرب کسی سیاسی فائدے کے بغیر ہی جنگ یمن میں الجھ گیا ہے اور تقریبا تین سال کا عرصہ گزرنے اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک حتمی کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔
یہ صورتحال قطر کے ساتھ سعودی عرب کی سفارتی جنگ اور چار عرب ممالک کی جانب سے اس کے محاصرے کے سلسلے میں بھی نظر آتی ہے۔ ریاض منامہ، ابوظبی اور قاہرہ کے ساتھ مل کر رواں سال پانچ جون سے دوحہ کا مقابلہ کر رہا ہے اور ابھی تک اسے اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ قطر مخالف محاذ کو مضبوط بنانے پر مبنی سعودی عرب کی کوشش سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ قطر کا محاصرہ کرنے والے چار عرب ممالک کے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
ایسے حالات میں سعودی عرب عراق کو قطر کا محاصرہ کرنے والے ممالک کی صف میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ بھی اس مضحکہ خیز وعدے کے ساتھ کہ وہ دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے بعد عراق کے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کرے گا۔ سعودی عرب کی یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہوگی کیونکہ عراقی عوام اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کا فتنہ سعودی عرب کی حمایت سے ہی وجود میں آیا ہوا تھا اور ریاض عراق میں ہونے والی تباہی و بربادی کے سلسلے میں جوابدہ ہے۔