امریکی پابندیاں انسانی حقوق کے منافی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i289834-امریکی_پابندیاں_انسانی_حقوق_کے_منافی
ایران کی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سیکریٹری محمد جواد لاریجانی نے امریکہ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی اور تہران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی جانے والی ہر غیر ایٹمی پابندی انسانی حقوق کے منافی ہونے کے علاوہ ایک قوم کے حقوق کی پامالی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۱ Asia/Tehran
  • امریکی پابندیاں انسانی حقوق کے منافی

ایران کی عدلیہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سیکریٹری محمد جواد لاریجانی نے امریکہ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی اور تہران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی جانے والی ہر غیر ایٹمی پابندی انسانی حقوق کے منافی ہونے کے علاوہ ایک قوم کے حقوق کی پامالی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امریکہ نے اقتصادی حربے کو بارہا استعمال کیا ہے۔ البتہ اس نے یہ حربہ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ کیوبا سے لے کر روس تک بہت سے ممالک کے خلاف استعمال کیا ہے۔ امریکہ اپنے ناجائز سیاسی مفادات کے حصول کے لئے اقتصاد کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ ممالک کو اپنے داخلی قوانین دوسرے ملکوں پر لاگو نہیں کرنے چاہئیں۔ لیکن امریکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بعد ثابت کردیا ہے کہ وہ مختلف بہانوں کے ذریعے پابندیاں جاری رکھنا چاہتا ہے ۔

اسی سلسلے میں امریکی سینیٹ نے پندرہ جون دوہزار سترہ کو ایران مخالف پابندیوں کے جامع منصوبے کی منظوری دی تھی جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت جیسے الزامات کے تحت نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل امریکی وزارت خزانہ نے رواں سال فروری کے مہینے میں ایک بیان  جاری کر کے  ایران مخالف پابندیوں کی فہرست میں پچیس شخصیات کا اضافہ کر دیا تھا۔ دی فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسیز کے (The Foundation for Defense of Democracies (FDD) کے سی ای او مارک ڈوبو ویٹز (Mark Dubowitz) کا، جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مخالف ہیں، اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ ان غیر ملکی بینکوں اور کمپنیوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے جو ایران کے ساتھ لین دین کے لئے کوشاں ہیں۔ اگر وہ ایران کے ساتھ لین دین کریں گے تو ان کو بہت سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گزشتہ برس ستائیس نومبر کو یوم بحریہ کی مناسبت سے بحریہ کے حکام اور کمانڈروں سے خطاب کے دوران ایٹمی مذاکرات اور امریکی کانگریس کی جانب سے پابندیوں کی تجویز اور اس دعوے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ نئی پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں بلکہ سابقہ پابندیوں میں ہی توسیع کی گئی ہے ، فرمایا تھا کہ نئی پابندی لگانے اور کسی پابندی کا وقت ختم ہونے کے بعد اس کو برقرار رکھنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔موخر الذکر بھی پابندی ہے اور یہ فریق مقابل کی جانب سے پہلے سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن امریکہ قانونی اعتبار سے یورپی یونین پر بھی پابندیاں مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ امریکہ اور یورپی یونین کی ایران مخالف پابندیوں کو اگر مغربی بلاک کے نزدیک قابل قبول قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ یکطرفہ پابندیاں لگانا بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

بنابریں امریکہ کے ایران مخالف اقدامات کی ماہیت پابندیوں کے ذریعے اخلاقی اصولوں کو پامال کرنے سے عبارت ہے  اور اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان امور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کا سبب ایرانی قوم کا انقلابی ہونا، اس کے مواقف کا آزادانہ ہونا اور اس قوم کا امریکہ کی منہ زوری اور اس کے تسلط کا مخالف ہونا ہے۔