برطانیہ میں مسلمانوں پر تیزابی حملے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i290464-برطانیہ_میں_مسلمانوں_پر_تیزابی_حملے
برطانیہ کے مسلمانوں کو نسل پرستانہ اور تیزابی حملوں کا بدستور سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جمعرات کی رات پانچ مسلمانوں کے چہروں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات رونما ہوئے۔ مشرقی لندن کے مختلف علاقوں میں صرف ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے تیزاب پھینکنے کے پانچ واقعات سامنے آئے جن کے باعث اس طرح کے حملوں کے سلسلے میں مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۵ Asia/Tehran
  • برطانیہ میں مسلمانوں پر تیزابی حملے

برطانیہ کے مسلمانوں کو نسل پرستانہ اور تیزابی حملوں کا بدستور سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جمعرات کی رات پانچ مسلمانوں کے چہروں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات رونما ہوئے۔ مشرقی لندن کے مختلف علاقوں میں صرف ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے تیزاب پھینکنے کے پانچ واقعات سامنے آئے جن کے باعث اس طرح کے حملوں کے سلسلے میں مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

ان مظالم کے بارے میں قابل توجہ نکتہ برطانیہ کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے کے طور پر  بی بی سی کا ردعمل ہے۔ بی بی سی نے ان پانچ مسلمانوں پر کئے جانے والے تیزابی حملوں کو نہ تو نسل پرستانہ قرار دیا ہے اور نہ ہی دہشت گردانہ۔ بلکہ اس کے برعکس اس نے دوسرے ممالک میں تیزاب پھینکے جانے واقعات کی جانب اشارہ کرتے  ہوئے مسلمانوں پر تیزابی حملوں کو معمول کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیزاب پھینکنے والوں کا مقصد چوری کرنا تھا۔

ایک مسلمان پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے بعد لندن کی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ تفتیشی افسروں کا خیال ہے کہ حملہ کرنے والے تیزاب پھینکنے کے بعد ڈیلیوری بوائے کی گاڑی چھیننا چاہتے تھے۔ ایک اور رپورٹ میں برطانیہ کی پولیس نے دعوی کیا ہےکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حملہ آوروں نے مذہب یا نسل کی بنا پر تیزاب پھینکا ہو۔ لیکن جمیل مختار کا شمار بھی ان مسلمانوں میں ہوتا ہے جن پر برطانیہ میں تیزاب پھینکا گیا۔ ان کا کہنا ہےکہ  تیزاب پھینکے جانے کے واقعات کا تعلق اسلامو فوبیا سے ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر کسی برطانوی نژاد پر اس طرح کا حملہ ہوتا تو پورا ملک یکزبان ہو کر اسے دہشت گردانہ اقدام قرار دیتا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران باپردہ مسلمان خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کی رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں۔ لیکن ان ظالمانہ اقدامات کو برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ نے کوریج نہیں دی ہے۔ برطانیہ میں جن لوگوں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں اگر وہ غیر مسلم ہوتے تو پورے برطانیہ میں بھرپور انداز میں ان واقعات کے دہشت گردانہ ہونے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا۔ برطانیہ میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ کسی شخص نے چاقو کے ساتھ ایک غیر مسلم پر حملہ کیا تو اس ملک کی سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں نے شروع میں یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ کیا یہ دہشت گردانہ حملہ تھا یا نہیں؟ لیکن اگر اس طرح کے واقعات میں مسلمانوں پر حملہ کیا جائے تواس ملک کی سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیاں پوری کوشش کرتی ہیں کہ ان واقعات کو نسل پرستانہ اور دہشت گردانہ قرار نہ دیا جائے۔ چند ہفتے قبل لندن اور مانچسٹر میں نماز کے بعد مسلمانوں پر گاڑی چڑھائے جانے والے اور حالیہ تیزاب پھینکے جانے والے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
برطانیہ میں تین ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ ان کو بریگزیٹ کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تیزاب پھینکے جانے والے واقعات سے مسلمانوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ برطانیہ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں غالب تاثر یہ ہے کہ اسلام انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ترویج کرتا ہے۔ یہ نظریہ اور اس کے بارے میں کیا جانے والا پروپیگنڈہ برطانیہ اور بہت سے دوسرے مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا اور اسلام کے مقابلے کا باعث بنا ہے۔ برطانیہ نے ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ وسیع پیمانے پر اسٹریٹیجک تعلقات قائم کر رکھے ہیں حالانکہ سعودی عرب انتہاپسندی کا حامی، تشدد کوترویج دینے والا اور اسلام کی غلط تصویر پیش کرنے والا ملک ہے اور دوسری جانب وہ  اسلامی تعلیمات کو انتہاپسندی پر مبنی قرار دے کر اپنے آپ کو انتہاپسندی کے مقابلے کا علمبردار قرار دیتا ہے اور وہ مسلمانوں کے لئے سیاسی، سماجی  حتی اقتصادی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ برطانوی مسلمانوں کو ان مسائل کے علاوہ دائیں بازو کے ان افراد کے حملوں کی بنا پر بھی تشویش لاحق ہے جو اسلام کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں اور نسل پرستی کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔