امریکی صدر ٹرمپ کے ایران مخالف بیانات کے خلاف ایران کا رد عمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i290466-امریکی_صدر_ٹرمپ_کے_ایران_مخالف_بیانات_کے_خلاف_ایران_کا_رد_عمل
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف نامعقول بیانات کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا اور ایرانی قوم کے ساتھ احترام کی زبان میں بات کرنا چاہیے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۸ Asia/Tehran
  • امریکی صدر ٹرمپ کے ایران مخالف بیانات کے خلاف ایران کا رد عمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف نامعقول بیانات کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا اور ایرانی قوم کے ساتھ احترام کی زبان میں بات کرنا چاہیے۔

بہرام قاسمی نے ہفتے کے دن دنیا اور خطے میں ایران کے تعمیری، مثبت اور امن قائم کرنے والے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے مشیر بدستور احمقوں کی جنت میں گھوم رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے مشیروں کو ایران، خطے اور دنیا کے حالات سے چنداں واقفیت نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے دن پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر دعوی کیا تھا کہ ایران یورپ کے لیے سنگین خطرہ ہے اور امریکہ بقول ان کے عالمی استحکام کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نئے حکام  نے ایران کے ساتھ امریکی دشمنی کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور جب بھی ان کوئی پلیٹ فارم ملتا ہے تو وہ امریکہ کی تباہ کن پالیسیوں کے سلسلے میں جوابدہ ہونے کے بجائے دوسروں کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ امریکہ نے نائن الیون کے واقعات کے بعد سنہ دو ہزار ایک سے دہشت گردی کے مقابلے کے نام سے جو اقدامات انجام دیئے ہیں اگر ان کا ایک جائزہ لیا جائے تو اس بات کا واضح طور پر پتہ چل جائے گا کہ حقیقی سرکش کون ہے۔ افغانستان اور اس کے بعد عراق پر قبضے کے دوران امریکہ کے تشدد آمیز اور خود غرضی پر مبنی اقدامات اور اب مغربی ایشیا میں پراکسی وار کے دوران اس ملک کے اقدامات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ امریکی حکومت ایک ایسی سرکش حکومت ہے جو کسی بھی انسانی اور اخلاقی اصول کی پابند نہیں ہے۔ امریکہ کی جنگ پسند حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلنےکی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ امریکہ نے آل سعود جیسی جاہ طلب حکومتوں  کی حمایت کرنے کی بنا پر عالمی خطرے کی جڑ شمار ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ آل سعود حکومت یورپ میں انتہا پسندی اور تشدد کی ترویج کر رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک جو دہشت گردی امریکہ کی سامراجی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کارآمد ہے اسے پھیلانے والے وہ عناصر ہیں جنہوں نے سعودی عرب کے وہابی مدارس میں تعلیم و تربیت پائی اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی مالی امداد بھی حاصل کی۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ باب کورکر نے جمعرات کے دن  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سعودی عرب وسیع پیمانے پر دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے ، سعودی عرب کو دہشت گردی کی حمایت کی بنا پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ سعودی عرب کس حد تک دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پرتشدد انتہا پسندی اور تکفیری افکار و نظریات پھیلانے کی حمایت کے بارے میں بعض مغربی ممالک کی رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ پچاس برسوں میں تکفیری افکار و نظریات کے پھیلاؤ میں براہ راست ستاسی ارب ڈالر کے اخراجات کئے جس کی وجہ سے یہ ملک دہشت گردی کی اصل جڑ شمار ہوتا ہے۔

ان حالات میں ٹرمپ نے ایران مخالف نامعقول مواقف کا اظہار کیا ہے۔ ان مواقف کا سبب وہ بے تحاشا مالی مفادات ہیں جو امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو سعودی عرب جیسی سرکش حکومتوں کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدے کرنے سے حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ ایک ایسے سیاستدان ہیں جن کو اپنے ملک کے اندر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ وہ ایران مخالف اپنے بے بنیاد الزامات کے ذریعے عالمی خطرے کی غلط نشاندہی کرنے پر مبنی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں اخبار الحیات کی ویب سائٹ نے جمعے کے دن اپنے ایک مقالے میں لکھا کہ امریکہ کے دو اداروں کی تحقیقات کے مطابق دور ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار سولہ تک کے برسوں کے دوران تقریبا دو سو ایک دہشت گردانہ حملے انجام پائے جن میں سے دو تہائی حملے امریکہ کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے کئے۔