خلیج فارس تعاون کونسل میں جاری بحران کے نئے پہلو
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i290682-خلیج_فارس_تعاون_کونسل_میں_جاری_بحران_کے_نئے_پہلو
قطر اور دوسرے چار عرب ممالک کی باہمی کشیدگی کے خاتمے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی بے سود مشاورتوں کے بعد امریکہ کے انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قطر کے ذرائع ابلاغ کو ہیک کرکے عرب بحران کا آغاز کیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۳ Asia/Tehran
  • خلیج فارس تعاون کونسل میں جاری بحران کے نئے پہلو

قطر اور دوسرے چار عرب ممالک کی باہمی کشیدگی کے خاتمے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی بے سود مشاورتوں کے بعد امریکہ کے انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قطر کے ذرائع ابلاغ کو ہیک کرکے عرب بحران کا آغاز کیا۔

امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اتوار کے دن کی اشاعت میں لکھا کہ امریکی حکام کو گزشتہ ہفتے اپنے ملک کی خفیہ ایجنسیوں منجملہ سی آئی اے اور ایف بی آئی کی جانب سے حاصل ہونے والی اطلاعات سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اعلی حکام نے رواں سال تیئیس مئی کو قطر کے ذرائع ابلاغ کو ہیک کرنے کی تجویز کی بات اور اس تجویز کو عملی پہنانے کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ امریکہ کے انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر میں سے کسی ایک ملک نے یا ان میں سے بعض نے ایک دوسرے کے تعاون سے قطر کے ذرائع ابلاغ کو ہیک کیا تھا۔

چوبیس مئی کو قطر کے ذرائع ابلاغ کو ہیک کیا گیا جس کی وجہ سےخلیج فارس تعاون کونسل میں ایک ایسا بحران شروع ہوگیا جس کی مثال اس کونسل کی تاریخ میں اس سے پہلے موجود نہیں ہے۔ اس کونسل کے رکن چھ ممالک نے جو مواقف اختیار کر رکھے ہیں ان کی بنا پر ان ممالک کے ایک دوسرے پر اعتماد کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی اور خطے میں نئی کشیدگی کے ساتھ خلیج فارس تعاون کونسل کے اندرونی اختلافات اپنے عروج کو پہنچ گئے ہیں۔  یہ اختلافات سعودی عرب کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ سعودی عرب یہ توقع رکھتا ہے کہ دوسرے عرب ممالک آنکھیں بند کر کے اس کے احکامات کی تعمیل کرتے رہیں۔ ریاض کے حکام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب سے بہت سی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ وہ امریکہ کی حمایت کے ساتھ ایران مخالف خود ساختہ اتحاد کی حیثیت منوانا چاہتےتھے۔ وائٹ ہاؤس نےبھی ایران مخالف عرب اتحاد کی حمایت کی۔ سعودی عرب کے نئے ولیعہد محمد بن سلمان کی مالی تجویز کے ساتھ ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔

شاہ سلمان اور ٹرمپ کا رقص شمشیر سعودی عرب اور ٹرمپ کے اہداف کے حصول میں ناکام ثابت ہوا۔ ریاض سے ٹرمپ کے نکلتے ہی خلیج فارس تعاون کونسل میں پائے جانے والے اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ روس سے شائع ہونے والے اخبار نزاویسیمایا گازتانے اتوار کے دن اپنے ایک مقالے میں خلیج فارس کے علاقے میں عرب کشیدگی کے بارے میں لکھا کہ قطر کے ساتھ دوسرے عرب ممالک کی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ کو ایران مخالف ایک بڑا علاقائی اتحاد قائم کرنے میں بری طرح ناکامی ہوئی۔

ان حالات میں قطر کے ذرائع ابلاغ کا ہیک کیا جانا درحقیقت ایک ایسے ملک کو سزا دینے کے مترادف ہے جس نے سعودی عرب کے نزدیک اس کی نافرمانی کی تھی۔ سعودی حکومت اس گمان باطل میں مبتلا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی قیادت اور مینیجمنٹ اس کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے اس حکومت نے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی خودمختاری کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قطر نے سعودی عرب کی سرپرستی قبول نہ کی۔ قطر کے علاوہ کویت اور عمان نے بھی  سعودی عرب کی اندھی پیروی کو قبول نہیں کیا۔ عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے بارہ جولائی کو تہران کا دورہ کیا اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توسیع پر تاکید کی جس سے عمان کی آزاد خارجہ پالیسی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اخبار القدس العربی نے گزشتہ جمعرات کے دن اس سلسلے میں لکھا کہ قطر کے خلاف سعودی عرب کی قیادت والا اتحاد خلیج فارس تعاون کونسل کا شیرازہ بکھرنے کا باعث بنے گا اور مستقبل میں خطے میں نئے اتحاد وجود میں آئیں گے۔

علاقائی ممالک کے باہمی تعاون کے معنی ان ممالک کے آزادانہ موقف کو نظر انداز کئے جانے کے نہیں ہیں بلکہ باہمی تعاون سے خطے میں امن قائم ہوگا جبکہ تخریب کاری کے لئے اتحاد تشکیل دینے کی کوششیں خطے میں قیام امن کے سلسلے میں ممد و معاون ثابت نہیں ہوں گی۔ ہر ملک اپنی خود مختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور سیاسی سرپرستی کا زمانہ اب گزر چکا ہے۔