ایرانی وزیر خارجہ کی سی این این کے ساتھ گفتگو
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i290690-ایرانی_وزیر_خارجہ_کی_سی_این_این_کے_ساتھ_گفتگو
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے دن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان میں مندرج اپنے تمام وعدوں پر مکمل طور پر عمل کیا ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے لیکن امریکہ کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔ امریکہ نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۳ Asia/Tehran
  • ایرانی وزیر خارجہ کی سی این این کے ساتھ گفتگو

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے دن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان میں مندرج اپنے تمام وعدوں پر مکمل طور پر عمل کیا ہے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے لیکن امریکہ کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔ امریکہ نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔

سنہ دو ہزار پندرہ میں جولائی کے مہینے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہوا تھا جسے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کو دو سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن امریکہ اس پر عملدرآمد کی راہ میں بدستور رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اس عمل میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں موجود بعض حلقے اب جامع ایٹمی معاہدے اور ایران سے متعلق بعض دوسرے مسائل کے بارے میں امریکہ کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی بات کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اہم سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کا انجام کیا ہوگا؟

مشترکہ جامع ایکشن پلان کے جائزے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس معاہدے کے اچھے یا برے انجام کا دارومدار فریق مقابل کی نیک نیتی اور ان کی جانب سے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے جانے پر ہے۔

مشترکہ جامع ایکشن پلان میں ایران سے متعلق وعدوں کو نظر انداز کیا جانا  اس سلسلے میں اشتراک عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

المانیٹر (Al-Monitor) ویب سائٹ کے صحافی اور تجزیہ نگار بارابارا اسلاوین نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویئے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ایک بدترین معاہدہ قرار دیا تھا۔ وہ اب بھی اس معاہدے کو ختم کرنے اور اس کا متبادل لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ٹرمپ کو اس بات پر پریشانی لاحق ہے کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان سے پسپائی اختیار نہیں کی ہے اور امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایران مخالف نئی پابندیوں کو ختم کرے اور اس بات کو ثابت کرے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔

ٹرمپ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اس معاہدے پر اس کی نظر ثانی کا کام مکمل نہیں ہوجاتا تب تک وہ اس معاہدے کے دائرۂ کار میں اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرے گی۔

ویکلی اسٹینڈرڈ (THE WEEKLY STANDARD) ویب سائٹ نے اپنی جمعرات کے دن کی رپورٹ میں لکھا کہ ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں کی نظر ثانی کا کام کچھ عرصے سے جاری ہے اور یہ کام موسم گرما کے آخر تک اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

مشترکہ جامع ایکشن پلان کی کامیابی اس بات میں ہے کہ اس سے دنیا میں ایران کے خلاف پیدا شدہ ماحول اور ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ لیکن امریکہ اس کے مخالف راستے پر گامزن ہے۔ وہ کسی بھی بہانے سے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے درپے ہے جس کے معنی مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد دوبارہ عدم اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

محمد جواد ظریف نے سی این این کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ مثال کے طور پر وائٹ ہاؤس نے چند دن قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ہمبرگ اجلاس میں شرکت سے فائڈہ اٹھاتے ہوئے گروپ بیس کے رکن ممالک کے سربراہوں کو ایران کے ساتھ تجارت نہ کرنے پر اکسایا جبکہ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف ایٹمی معاہدے کی ماہیت بلکہ خود معاہدے کے متن کے بھی خلاف ہے۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسا متبادل موجود ہے جس سے موجودہ صورتحال میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دائرۂ کار میں اشتراک عمل کو تقویت پہنچائی جاسکتی ہو؟ حقیقت یہ ہےکہ عدم اعتماد کے ماحول میں کوئی بھی دوسرا معاہدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

سیاست کی دنیا میں اشتراک عمل ایک منطقی امر ہے لیکن ایک مسلّمہ اصول یہ بھی ہے کہ اشتراک عمل کوئی ون وے روڈ نہیں ہے اور نہ ہی یہ راستہ اکیلے طے کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دائرۂ کار میں مختلف اقدامات انجام دیئے ہیں اور ان اقدامات کو صرف فریق مقابل کے اقدامات کے ساتھ ہی تقویت مل سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر موجودہ ماحول کو ختم نہ کیا گیا تو جلد یا بدیر یہ ماحول مشترکہ جامع ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے کے عمل کو متاثر کرے گا کیونکہ کوئی بھی معاہدہ صرف اسی وقت تک کامیاب ہوسکتا ہے جب تک سب فریقوں کو اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہے۔