الحدیدہ بندرگاہ سے متعلق اسماعیل ولد الشیخ کی تجویز کے اہداف
یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ نے پیر کے دن کہا کہ یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونا چاہئے۔ اسماعیل ولد الشیخ نے، کہ جو مصر کے دورے پر ہیں، قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس بندرگاہ کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ میں ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جو اس ملک میں جاری بحران کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اسماعیل ولد الشیخ نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک امریکہ کی حمایت سے اس بندرگاہ پر حملہ کر کے اس اہم اور حساس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ سعودی عرب کے ان اقدامات کی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔ اس رد عمل کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی الحدیدہ بندرگاہ کو یمن تک انسان دوستی پر مبنی امداد پہنچانے کے لئے بحیرہ احمر میں انتہائی اہم مرکز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس بندرگاہ پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے یمنی عوام کے لئے بہت ہی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ یمن سے متعلق سعودی عرب اور مغرب کی سازشوں کے خلاف وسیع عوامی اور عالمی رد عمل ظاہر کئے جانے کے بعد انہوں نے اپنے موقف میں تبدیلی پیدا کی اور اب وہ یمن کے حساس علاقوں پر قبضے کے لئے سفارتی طریقے استعمال کر رہے ہیں خصوصا اقوام متحدہ کے ذریعے اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہیں۔ اس ماحول میں اسماعیل ولد الشیخ نے تجویز پیش کی ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کا انتظام فریق ثالث اور غیر جانبدار فریق کے سپرد کیا جائے یا اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے ذمے لگائی دی جائے۔ اقوام متحدہ کی یہ تجویز درحقیقت سعودی عرب اور مغرب کی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی ہی کوشش ہے اور اس تجویز سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ بھی اس سازش میں شریک ہوچکی ہے۔ سعودی عرب نے الحدیدہ بندرگاہ کے راستے اسلحہ یمن اسمگل کئے جانے کا پروپیگنڈہ کر کے اسے فوجی علاقہ قرار دے دیا۔ سعودی عرب اس بندرگاہ کو بند کر کے اسے تباہ کرنے کے درپے ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور مغربی حکومتیں عوام کو دھوکہ دینے پر مبنی اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا کر یمن کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اسے کمزور کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہی مذموم مقاصد کے پیش نظر یمنی حکام نے اسماعیل ولد الشیخ کی تجویز کی مخالفت کی ہے اور یمن میں ان کے اقدامات کو مشکوک قرار دیا ہے۔ اگر اسماعیل ولد الشیخ نے یمن کے بارے میں مغرب اور جارح سعودی حکومت کی مطلوبہ تجویز کو عملی جامہ پہنائے جانے کے بارے میں اپنا اصرار جاری رکھا تو اس کا نتیجہ یمن کا بحران مزید پیچیدہ ہونے کے سوا کچھ اور برآمد نہیں ہوگا۔