استقامتی محور اسلامی دنیا میں چمکتا ہوا نگیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i291932-استقامتی_محور_اسلامی_دنیا_میں_چمکتا_ہوا_نگیں
استقامتی محور کو مغربی ایشیا کے اسٹریٹیجک علاقے میں مسلسل کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور اسی دوران محمد رعد کی سربراہی میں حزب اللہ لبنان کے سینیئر رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے تہران میں ایران کے اعلی حکام سے ملاقاتیں اور مذاکرات کئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۲ Asia/Tehran
  • استقامتی محور اسلامی دنیا میں چمکتا ہوا نگیں

استقامتی محور کو مغربی ایشیا کے اسٹریٹیجک علاقے میں مسلسل کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور اسی دوران محمد رعد کی سربراہی میں حزب اللہ لبنان کے سینیئر رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے تہران میں ایران کے اعلی حکام سے ملاقاتیں اور مذاکرات کئے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے اس وفد نے بدھ کے دن اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات اور مذاکرات کئے جبکہ منگل کے دن اس وفد نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات اور علاقائی صورتحال نیز استقامتی محور کے کلیدی کردار کے بارے میں مشاورت کی تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور حزب اللہ لبنان کے وفد کے مذاکرات کے دوران لبنان سے یمن تک کے علاقے میں طاقت کے علاقائی اور مقامی عناصر کے طور پر استقامتی محور کے اثر انداز ہونے کے موضوع کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے اس وفد سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ ایران استقامتی محور کی حمایت اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے سلسلے میں کسی تذبذب کا شکار نہیں ہے اور یہ ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ اس سے قبل محمد جواد ظریف نے بھی شام کی سرحد کے قریب واقع عرسال کے علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں حزب اللہ لبنان کی کامیابی کو اسلامی دنیا کے لئے ایک سبق قرار دیا تھا۔

لبنان کی اسلامی استقامت نے سیاسی اور فوجی دونوں میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آج حزب اللہ کے مخالفین بھی اس کے مثبت اور دانشمندانہ کردار کی تصدیق کرتے ہیں۔ لبنان کی اسلامی استقامت نے ان دو اہم اور حساس میدانوں خصوصا جرود عرسال کے علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ جنگ کے دوران لبنان کے دوسرے اداروں کے ساتھ باہمی اتحاد اور تعاون کو اپنے ایجنڈے میں قرار دیا اور کبھی بھی یکطرفہ طور پر عمل نہیں کیا۔ جرود عرسال کے علاقے کی آزادی کے لئے لبنان کی فوج کے ساتھ تعاون سے یہ بات کھل کر سامنےآئی ہےکہ حزب اللہ لبنان حب الوطنی اور باہمی اتحاد کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

علمائے استقامت کی عالمی یونین کے سربراہ شیخ ماہر حمود نے اس سلسلے میں بدھ کے دن زور دے کر کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے مقابلے میں جنوبی لبنان میں اور جبھۃ النصرہ کےمقابلے میں مشرقی لبنان میں حاصل ہونےوالی کامیابیوں کو ایک شیعہ تنظیم کی کامیابیاں قرار نہیں دیا ہے۔

Lebanese Forces  پارٹی کے سربراہ اور حزب اللہ کے سخت مخالف سمیر جعجع نے بھی منگل کے دن اس بات کا اعتراف کیا کہ حزب اللہ لبنان کی کامیابی مغربی ایشیا میں استقامتی محور کی کامیابیوں کا ہی تسلسل ہے۔ استقامتی محور نے ایران کی اصولی اور بنیادی حمایت کے ساتھ فلسطین کے علاوہ شام، عراق اور یمن میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور استقامتی محور اسلامی دنیا میں ایک نگین کی طرح درخشاں ہے۔ استقامتی محور نے اسلامی ممالک کا جغرافیہ اور ان ممالک کی سرحدوں کو تبدیل کرنے پر مبنی دشمنوں کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور صیہونی حکام استقامتی محور کو ترک اسلحہ پر مجبور کرنے کے درپے ہیں۔

ان دنوں قدس شریف میں صیہونیوں کی بوکھلاہٹ، لبنان کی جنوبی اور مشرقی سرحدوں اور شام میں حزب اللہ کی کامیابیاں، موصل میں دہشت گرد گروہ داعش کی شکست اور یمن کے دلدل میں سعودی جارحین کے دھنس جانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ مغربی ایشیا کے سیاسی معاملات میں موثر عناصر کے طور استقامتی محور کلیدی کردار کا حامل ہے۔