سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کا کامیاب تجربہ، ایران کی طاقت کا مظاہرہ
امام خمینی نیشنل اسپیس سینٹر کے باضابطہ افتتاح کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران کے علمی کارنامے میں ایک اور کامیابی ثبت ہوگئی ہے۔ امام خمینی نیشنل اسپیس سینٹر نے اپنے پہلے اقدام کے طور پر جمعرات کے دن سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کا کامیاب تجربہ کیا۔
امام خمینی نیشنل اسپیس سینٹر ایران کا پہلا اسپیس سینٹر ہے جہاں سے سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کے تمام مراحل انجام دیئے جائیں گے اور خلا میں سیٹیلائٹ کو کنٹرول کیا جائے گا۔یہ اسپیس سینٹر عالمی معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے اور ایل ای او مدار میں ایران کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل ڈھائی سو کلو گرام وزن کے سیٹیلائٹ زمین کے مدار میں پانچ سو کلومیٹر کی بلندی پر لے جاسکتا ہے۔ یہ کامیابی سیٹیلائٹ مدار میں بھیجنے کے میدان میں ایران کی ترقی و پیشرفت کی علامت ہے۔ اس سے قبل ایران گزشتہ برسوں کے دوران ناہید، امید اور رصد نامی سیٹیلائٹ مدار میں بھیج چکا ہے۔
سائنس و اسپیس کے میدان میں ایران کی حالیہ کامیابی سے ایران کی قومی طاقت کو تقویت پہنچانے والے عناصر کی تکمیل ہوئی ہے۔ علمی و سائنسی طاقت اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کے عناصر میں سے ایک ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے مغرب خصوصا امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے باوجود اس راستے پر مضبوطی کے ساتھ قدم اٹھائے ہیں۔
اولین اسپیس سینٹر کا افتتاح ایرانیوں کی قومی طاقت کا عروج شمار ہوتا ہے اور یہ طاقت ایرانی سائنسدانوں کی محنت کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔
موجودہ صدی سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ ماضی کی طرح اب طاقت کے عناصر فوجی طاقت تک محدود نہیں رہے ہیں اور ہر ملک کی طاقت مختلف میدانوں میں اس کی صلاحیتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ سائنسی ترقی و پیشرفت دنیا سے اپنا لوہا منواتی ہے۔ دنیا میں ایران کی علمی ترقی کے پیش نظر اس میدان میں ایرانی سائنسدانوں کی محنت سے جس قدر بھی ترقی ہوگی اسی قدر دنیا میں ایران کا علمی اثر و رسوخ زیادہ ہوگا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کسی بھی ملک کی ترقی دوسرے میدانوں میں بھی اس ملک کی ترقی و پیشرفت شمار ہوتی ہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے امام خمینی نیشنل اسپیس سینٹر کے افتتاح کے بعد اس سلسلے میں کہا ہے کہ آج سائنس اور خلائی ٹیکنالوجی ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے اور مختلف سائنسی لحاظ سے ہماری طاقت اور قابلیت میں جس قدر اضافہ ہوگا اسی قدر وطن کی عزت اور طاقت مستحکم ہوگی۔
ایران نے سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کا کامیاب تجربہ کر کے " ہم ہر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں" کے اپنے نعرے کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ ایرانی دانشوروں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خود اعتمادی سے کام لیتے ہوئے اور جہد مسلسل کے ساتھ اس نعرے کو عملی جامہ پہنایا ہے اور آج یہ اصولی اور اسٹریٹیجک نعرہ سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیکل سائنسز، فوجی اور دوسرے میدانوں میں ایران کی طاقت کے عناصر میں تنوع پیدا کرنے کا سبب بن چکا ہے۔
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران نے سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور ادھر امریکی سینیٹ نے امریکی ایوان نمائندگان کے منظور کردہ ایران مخالف پابندیوں کے بل کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی وزارت خارجہ نے سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کے تجربے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا یہ اقدام مشترکہ جامع ایکشن پلان اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کےمنافی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کا یہ دعوی بے بنیاد ہے کیونکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان ایران کی سائنسی اور علمی کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں ایران کو اس طرح کے اقدام سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ یہ امریکہ ہے جس نے مختلف بے بنیاد دعووں اور بہانوں کے ساتھ بارہا مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکہ میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (The International Institute for Strategic Studies) کے سربراہ مارک فیٹز پیٹریک نے جمعرات کے دن تاکید کے ساتھ کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت، ایران پر مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کا الزام ایسے بہانوں اور دعووں کے ساتھ لگا رہی ہے جو بالکل بے بنیاد ہیں۔