ہندوستان: مظفر پور کے امام جمعہ کی رہائی کا مطالبہ
مجلس علمائے ہند نے ریاست بہار کے شہر مظفر پور کے امام جمعہ مولانا محمد کاظم شبیب کی، جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مجلس علمائے ہند نے ایک بیان میں ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر مظفر پورکے امام جمعہ مولانا محمد کاظم شبیب کے گھر پر حملے اور ان کی گرفتارکی شدید مذمت کی ہے- دہلی کے امام جمعہ مولانا سید محسن تقوی کے بقول پولیس نے، ان افراد کے اکسانے اور مشتعل کرنے پر جو وقف کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، مولانا محمد کاظم شبیب کے گھر پر حملہ کردیا اور گھر کے سارے سامان اور وسائل تباہ و برباد کرنے کے بعد ان کے گھر کے افراد کو زخمی کردیا اور انہیں گرفتار بھی کرلیا - سیکڑوں ہیکٹیر زمینیں، دکانیں، امامبارگاہیں ، اپارٹمنٹنس اور املاک و جائیداد مسلمانوں اور خاص طور پر ایرانیوں کے توسط سے ہندوستان میں فلاحی کاموں کی انجام دہی کے لئے وقف کی گئی ہیں کہ جن پر گذشتہ برسوں کے دوران وقف مافیا اور ضلع انتظامیہ کے توسط سے قبضہ کیا گیا ہے-
دوہزار چودہ سے جب سے ہندوستان میں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے، انتہا پسند ہندو اور ان سے وابستہ مقامی حکومتیں، اس ملک کے مسلمانوں پر حملے اور اپنے دباؤ میں شدت لائی ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ وقف دین اسلام میں ایک سنت حسنہ ہے کہ جس کی بیناد پر نیک اور مخیر افراد رضاکارانہ طورپر اور قلبی رجحان کے باعث اپنے اموال لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کردیتے ہیں چنانچہ ہندوستان کے مسلمان بھی اس امر سے مستثنی نہیں ہیں لیکن انتہا پسند ہندو تنظیمیں اور وقف مافیا ان وقف شدہ املاک و جائیداد پر قبضہ کرنے کے زعم میں ، شیعہ علماء پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ مجلس علمائے ہند کے سربراہ مولانا کلب جواد نے بھی حکومت بہار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وقف کے تحفظ کو یقینی بنائے اور وقف مافیا کے خلاف کارروائی کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی جانب سے مولانا شبیب کاظم اور نمازیوں پر جان لیوا لاٹھی چارج اور بربریت کی تحقیقات کرائے- مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ وقف جائیدادوں پر وقف مافیا کے غیرقانونی قبضے کی مخالفت کرنے والے علماء اور نمازیوں پر ضلع انتظامیہ کا تشدد ، قابل مذمت ہے۔
مولاناسید کلب جواد نقوی نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو ایک خط لکھ کر نمازیوں پر ہونے والے لاٹھی چارج، ان کی گرفتاری اور وقف مافیا اور ضلع انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ انتہا پسند عناصر اپنی جارحیتیں جاری رکھنے میں تحفظ کا احساس نہ کریں- اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی عملی طور پر ثابت کریں کہ وہ ہندوستانی عوام کی حمایت اور اس ملک میں قومی اتحاد کی تقویت کے اپنے نعروں کے پابند ہیں تاکہ ہندوستان کی اقوام پر امن بقائے باہمی کے ساتھ پرسکون زندگی گذار سکیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی ریاست بہار کی پولیس نے اس صوبے کے ضلع مظفرپور میں اکیس جولائی کو نماز جمعہ کے بعد وقف مافیاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں پر حملہ کر دیا تھا ۔ پولیس کے وحشیانہ حملے اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں مولانا شبیب کاظم سمیت کئی علماء اور مظاہرین شدید زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے بچوں اور خواتین کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ہندوستان کے مسلمان عوام، ایک عالم دین کے گھر پر اس طرح کے جارحانہ حملے اور عورتوں اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اپنی نوعیت کا منفرد حملہ ہے ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ہندوستان کی حکومت ، حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس کاروائی نہیں کرتی تو پھر یہ اقدام اس ملک کے مسلم علماء پر دباؤ بڑھانے کے ایک عمل میں تبدیل ہوجائے گا کہ جو ہندوستان میں متنوع ثقافتی اور مذہبی رجحانات کے حامل معاشرے کے مفاد میں نہیں ہے۔