امریکی وزارت خزانہ کے اقدام پر ایران کا سخت ردعمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i292128-امریکی_وزارت_خزانہ_کے_اقدام_پر_ایران_کا_سخت_ردعمل
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے ، جمعے کی شام ایران کے تحقیقاتی اور سائنسی راکٹ سیمرغ  کے کامیاب تجربے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھے ایرانی اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۹, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۶ Asia/Tehran
  • امریکی وزارت خزانہ کے اقدام پر ایران کا سخت ردعمل

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے ، جمعے کی شام ایران کے تحقیقاتی اور سائنسی راکٹ سیمرغ  کے کامیاب تجربے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھے ایرانی اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سنیچر کو ہمارے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور واشنگٹن کے دشمنانہ اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوجی امور اور میزائلی پروگرام کے سلسلے میں ایران کی پالیسی پوری طرح واضح ہے اور دوسروں کو اس سلسلے میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے- واضح رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چھے ایرانی اداروں کے اثاثوں کو منجمد کردیا جائے گا اور مذکورہ اداروں کے ساتھ امریکہ اور دیگر ملکوں کے اداروں اور شہریوں کو بھی تعاون سے روک دیا جائے گا۔

تہران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیاں ایسی حالت میں عائد کی جا رہی ہیں کہ امریکی کانگریس نے گذشتہ ہفتے بھاری اکثریت سے ایران کے خلاف پابندی عائد کرنے کے بل کو منظوری دی ہے اور اس وقت اسے قانون میں تبدیل کرنے کےلئے صدر ٹرمپ  کے دستخط کا انتظار ہے- بعض ذرائع ابلاغ اس طرح سے بیان کر رہے کہ امریکہ کا ایران مخالف بل ، اقتصادی پابندیوں کا حامل نہیں ہے جبکہ امریکہ کا اصلی مقصد پابندیاں عائد کرنے سے ایران کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے تاکہ یہ ملک عدم استحکام سے دوچار ہوجائے اور مقتدر و مستحکم ملک نہ بن سکے-

اس کی حالیہ مثال امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں ہیں- یہ اقدامات ایسے میں انجام پا رہے ہیں کہ متشرکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کی شقوں، اٹھائیس اور انتیس کی بنیاد پر ایسے قانون کا وضع کیا جانا ،جو ایران کے معاشی تعلقات پر اثر انداز ہو، ممنوع ہے- ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ امریکہ اس اقدام کے ذریعے تین مقصد کے حصول کا درپے ہے

  • پہلا مقصد اندرون ملک معاشی حالات کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کو مزید بڑھاوا دینا ہے- 
  • دوسرا مقصد ایران کی انقلابی تنظیموں اور اداروں منجملہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کردار اور اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔
  • تیسرا مقصد نام نہاد غیر ایٹمی مسائل کے تعلق سے، آئندہ دنوں میں ممکنہ مذاکرات کے لئے حالات سازگار بنانا ہے-

بعض خبری حلقے اس بل کو " پابندی کے تاریک کنویں" سے تعبیر کر رہے ہیں- لیکن کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اپنے ان اقدامات کے ذریعے، خود ہی اس تاریک کنویں میں دفن ہوجائے گا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پچھلے چالیس برس سے دباؤ، پابندیوں نیز خطے کے بعض ملکوں کو ایران کے خلاف اکساتا چلا آیا ہے اور تمام معاملات میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، کہا کہ امریکہ کو ملت ایران کے مقابلے میں اپنی پے درپے شکست سے عبرت حاصل کرنا چاہیے اور وہ یہ بھی جانے لے کہ ایرانی قوم  ہرگز سازشوں اور پروپگنڈوں سے متاثر نہیں ہوگی اور اپنے ہدف کی جانب گامزن رہے گی-

صدر ایران نے کہا کہ امریکہ صرف اسلامی جمہوری نظام کا دشمن نہیں ہے بلکہ اسے ایران کی استقامت و پائیداری اور اس کا رول ماڈل بننا بھی برداشت نہیں ہے۔  صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی طاقت میں اضافے اور دفاع کو مضبوط بنائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، اسلامی جمہوریہ ایران اپنے بارے میں دیگر ملکوں کی پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دفاعی ہتھیاروں کی تقویت کرے گا اور ایران کے عوام، اپنی مسلح افواج کے تمام دستوں، سپاہ پاسداران ، فوج، عوامی رضاکار فورس، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی بھر پور حمایت کرتے رہیں گے۔