ایٹمی معاہدے میں ایران کی ریڈ لائن
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i292278-ایٹمی_معاہدے_میں_ایران_کی_ریڈ_لائن
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی ہے - اس کے باوجود ایٹمی معاہدے کے فریقوں کا خیال ہے کہ اس چند فریقی معاہدے کی خلاف ورزی ابھی سنگین مرحلے نہیں تک پہنچی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۵ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے میں ایران کی ریڈ لائن

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کی امریکہ کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی ہے - اس کے باوجود ایٹمی معاہدے کے فریقوں کا خیال ہے کہ اس چند فریقی معاہدے کی خلاف ورزی ابھی سنگین مرحلے نہیں تک پہنچی ہے-

جو سوال یہاں پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ کیوں امریکہ نے ایٹمی معاہدے کو نشانہ بنا رکھا ہے اور وہ اپنے اس اقدام کے ذریعے کس ہدف و مقصد کے درپے ہے - کیا ٹرمپ کا مقصد ایٹمی معاہدے کو ایک بے اثر معاہدہ قرار دینا ہے یا پھر ایران کو غیر ایٹمی مسائ‏ل میں الجھانا ہے؟ جو غیر ایٹمی مسائل ہیں وہ تین واضح موضوعات پر مرکوز ہیں۔

1- ایران کی میزائلی صلاحیت 

2-  ایران کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے بے بنیاد دعوے کے پیرائے میں، علاقے میں اسلامی مزاحمت کے لئے ایران کے حمایتی کردار کو خطرہ بناکر پیش کرنا 

3- ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایران میں جمہوریت کا فقدان 

یہ مسائل حتی مشترکہ جامع ایکشن پلان سے قبل بھی موجود تھے- بالفاظ دیگر یہ امریکی طرز فکر اور رویہ، ایران کے ساتھ امریکہ کی دیرینہ دشمنی جاری رہنے کا آئینہ دار ہے کہ جو ایک زمانے میں ایٹمی مسئلے پر مرکوز تھا- لیکن پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ انجام پانے کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوگیا اور امریکہ ، ایٹمی معاہدے کے ایک فریق کی حیثیت سے اس بات کا پابند بنا کہ وہ ایران کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق منسوخ کرے گا اور ہر اس اقدام سے جو ایران میں اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ بنے اس سے اجتناب کرے گا-

مشترکہ جامع ایکشن پلان کی شقوں 26 ، 28 اور 29 میں ان مسائل کی پابندی کئے جانے پر تاکید کی گئی ہے- لیکن مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد جو واقعات رونما ہوئے ان سے امریکہ کے توسط سے ان شقوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی ہوتی ہے-  امریکی ایوان نمائندگان اور امریکی سینٹ نے مخالف پالیسیوں کے دائرے میں گذشتہ ہفتے ایران، روس اور شمالی کوریا پر پابندی کا ایک بل منظور کیا ہے- امریکہ یہ پابندیاں ایران ، روس اور شمالی کوریا کے خلاف عائد کر رہا ہے ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر امریکہ کی پکڑ کمزور پڑ چکی ہے لیکن یہ مسئلہ کہ اس کے بعد ٹرمپ کیا کریں گے، چند متغیر عوامل پر منحصر ہے

روزنامہ نیویارک ٹائمز ایک مضمون میں لکھتا ہے کہ ٹرمپ  بنیادی طور پر ایران کی مخالفت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں تاکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے خارج ہوجائیں - البتہ ابھی یہ محض ایک امکان ہے-

بہرصورت ایران کے نقطہ نگاہ سے اس کا جواب اور ردعمل بہت واضح ہے - سنئیر ایرانی جوہری مذاکرات کاراور نائب ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کل رات ایران کے ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے حالیہ اقدام کو ایران دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ ، جوہری معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کوشش میں ہیں کہ حالات کو کچھ اس طرح بنایا جائے کہ ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے میں پہل کرے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات اور جوہری معاہدے پر ان کی خلاف ورزی کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا ردعمل ناگزیر ہے اور پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے خصوصی اجلاس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران امریکہ کو منہ توڑ جواب دے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بھی اس سے قبل جون دوہزار سولہ میں ایک خطاب میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا فرمایا تھا کہ امریکہ کے نامزد امیدوار یہ دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ایٹمی معاہدے کو پارہ کردیں گے اگر انہوں نے ایسا کیا تو ایران اسے آگ میں جلا دے گا - رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہمارے دشمن کا منصوبہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت کو روک دے یا ان صلاحیتوں کو ملیامیٹ کردے ، فرمایا تھا کہ ایران جہاں تک ممکن ہوسکے گا اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا رہے گا-