تہران میں مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کا مشترکہ اجلاس
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کے مشترکہ اجلاس میں ایران اور علاقے کے اہم ترین مسائل کا جائزہ لیا گیا-
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کو مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کے اجلاس کے اختتام پر، ایران کے خلاف امریکی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں امریکہ کی حالیہ پابندیوں اور ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا- صدر مملکت حسن روحانی نے اس اجلاس میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج ایسے مقام پر ہے کہ کوئی بھی اس کی عظمت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کہا کہ مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اتحاد پایا جاتا ہے اور سب مسلح افواج کی حمایت کرتے ہیں اور کوئی بھی ایران کی مسلح افواج کو نقصان نہیں پہنچا سکتا-
ایران کے صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج ، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ، رضاکار فورس بسیج، پولیس اور دیگر تمام سیکورٹی فورسز کو قوم کی حمایت حاصل ہے اور ایران پوری طاقت سے اپنا راستہ جاری رکھےگا- امریکہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اتحاد و یگانگت تمام شعبوں میں ، ایران کی کامیابی کا راز ہے - یہ اتحاد ایک جانب ایرانی قوم کے درمیان واضح اور نمایاں ہے اور دوسری جانب حکام اور عہدیداران بھی اس پر تاکید کرتے ہیں-
درحقیقت اسلامی جمہوری نظام نے اپنی چالیس سالہ تاریخ میں ، آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دور کی مانند پابندیوں کا سخت ترین دور گذارا ہے اور اس دوران ایٹمی مسئلے میں ملت ایران کے حقوق کی بازیابی کو بھی پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے- اس کے باوجود امریکہ نے ایٹمی معاہدے کے بعد دشمنانہ اقدامات کے نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے کو تفرقے سے دوچار کردے اور عوام اور حکام کو ایک دوسرے سے بدگمان کردے لیکن اسے بخوبی معلوم ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے کسی ہدف میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا-
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ جون کے مہینے میں صدر مملکت، حکومتی اراکین، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے سربراہوں اور سینئر حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی حقیقی ماہیت کا ذکر کیا تھا - اور اپنے بیان میں اس بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ کے غیرشائستہ اور بیہودہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ استکباری طاقتیں اپنی خواہشات اور مطالبات کو مسلط کرنے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتی ہیں اورنام نہاد عالمی اصول و ضوابط کی آڑ میں سامراجی قوتوں کے مقاصد کو پورا کیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آزاد اور خودمختار ممالک کو جو ظلم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، قانون توڑنے کا ملزم ٹھہرایا جائے-
بلاشبہ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے اعلی حکام سے اپنے خطاب میں جن اہم مسائل کا ذکرکیا وہ کئی جہات سے اہمیت کے حامل ہیں کہ جن میں سے ایک امریکہ کی حقیقی ماہیت کی شناخت اور اس پر توجہ ہے - لیکن اس سے اہم ، عالمی سطح پر ایران مخالف امریکی رویوں ، پروپیگنڈوں اور دھمکیوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوری نظام کی عظیم حکمت عملیاں ہیں-
ان تمام مسائل اور امریکی پالیسیوں میں پائی جانے والے آشکارہ و پنہاں حقائق ہی اس بات کا باعث بنے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ اکثر مسائل کا حل ممکن نہیں اورامریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام یا انسانی حقوق سے تکلیف نہیں بلکہ اس کا اصل مسئلہ ایران میں قائم اسلامی جمہوری نظام ہے-
آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی طرح ایران کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، دہشت گردی اور علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے دعوے کو ایران کے نظام کے خلاف امریکی بہانہ قرار دیا اور فرمایا : امریکہ خود دہشت گرد اور دہشت گردوں کو وجود میں لانے والا اور صیہونی حکومت جیسی غاصب اور غیرقانونی حکومت کا حامی ہے کہ جو دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کی بنیاد ہی دہشت گردی اور قتل وغارتگری پر استوار ہے اس لئے امریکہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا جاسکتا-
بلا شبہ امریکی سازشوں سے مقابلے کے لئے ماضی کے تجربات سے استفادہ کرنا اور دھمکیوں کو معمولی نہ سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا ان اہم مسائل میں سے ہے کہ جن کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا- اور کل مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کا اجلاس بھی اسی مسئلے پر دوبارہ تاکید ہے-