لیبیا اور تیونس کی سرحدیں داعش کی نئی پناھگاہیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i292646-لیبیا_اور_تیونس_کی_سرحدیں_داعش_کی_نئی_پناھگاہیں
شام اور عراق میں داعش کو ملنے والی پے در پے شکستوں کے بعد اس وقت لیبیا اور تیونس کی سرحدیں اس دہشت گرد گروہ کی نئی پناہگاہ میں تبدیل ہوگئی ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۲, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۳ Asia/Tehran
  • لیبیا اور تیونس کی سرحدیں داعش کی نئی پناھگاہیں

شام اور عراق میں داعش کو ملنے والی پے در پے شکستوں کے بعد اس وقت لیبیا اور تیونس کی سرحدیں اس دہشت گرد گروہ کی نئی پناہگاہ میں تبدیل ہوگئی ہیں-

داعش دہشت گرد گروہ کہ جو اس وقت عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے یکے بعد دیگرے ہاتھ دھو رہا ہے، اس کوشش میں ہے کہ  لیبیا اور اس کے پڑوسی ملک تیونس میں اپنا قدم جمائے- اسی سلسلے میں سینکڑوں داعشی عناصر کہ جو لیبیا میں موجود ہیں ان دنوں تیونس سے ملحقہ سرحد پر جمع ہوکراپنی پرامن پناہ گاہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں-

داعش دہشت گرد گروہ جو دوہزار تیرہ میں وجود میں آیا ، شروع میں اس گروہ نے شام کے بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا اور پھر اس نے عراق پر حملہ کرکے شہر موصل پر بھی قبضہ کرلیا - اس گروہ نے 2014 میں شمالی افریقہ کے بعض ملکوں میں بھی اسلامی بیداری کی تحریکیں شروع ہونے اور ان ملکوں میں سیاسی و سماجی تبدیلیاں رونما ہونے کے سبب سیاسی عدم استحکام اور امن وسلامتی کے فقدان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کاروائیوں کا دائرہ وسیع کرلیا -

لیبیا اور تیونس اس علاقے کے دو اہم ملک ہیں کہ جو داعش کی توجہ کا مرکز رہے ہیں- لیبیا میں ایک طرف عدم استحکام اور ایک حکومت کا فقدان تو دوسری طرف تیونس کا اس کا پڑوسی ملک واقع ہونا، ایسے حالات میں وجود میں انے کا باعث بنا کہ جس کے سبب داعش کے عناصر نے تیونس اور اس علاقے کے دیگر ملکوں تک دسترسی حاصل کرلی- 

باجودیکہ اس وقت تیونس کے سیاسی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں لیکن بہت سی اقتصادی مشکلات و مسائل منجملہ مہنگائی، بے روزگاری کے سبب اس ملک کے باشندے خاص طور پر جوان طبقہ داعش گروہ میں شامل ہو رہا ہے تاکہ اپنی مادی و اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرسکے- اس بناء پر اس ملک کے حکام کی کوششوں کے باوجود داعش کے بیشتر افراد کا تعلق اسی ملک سے ہے- 

یورپ کی انٹلی جنس اور سیکورٹی ادارے کے سیکریٹری جنرل اور مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے ہیثم ابو سعید نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ چار ہزار سات سو لبیا کے اور پندرہ ہزار تیونس کے باشندے داعش سے ملحق ہوئے ہیں-  

لیبیا میں بھی اگرچہ اس ملک کے حکام کو کئی مرحلے میں سخت جنگ کے بعد لیبیا میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو اس دہشت گرد گروہ کے چنگل سے بازیاب کرانے میں کامیابی ملی ہے لیکن لیبیا میں بحران جاری رہنے اور مغربی ایشیا کے ملکوں میں داعش کو پے درپے شکستیں ملنے کے بعد یہ گروہ ایک بار پھر لیبیا اور شمالی افریقہ کے دیگر ملکوں کو اپنا نشانہ بنانے میں مصروف ہے- یہ ممالک کئی لحاظ سے اس گروہ کے لئے اہمیت کے حامل ہیں-  اول یہ کہ ان میں سے اکثر ممالک  وسیع پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے کے سبب ابھی استحکام حاصل نہیں کرسکے ہیں اور وہ داخلی اختلافات اور جھڑپوں میں الجھے ہوئے ہیں- تیل سےمالا مال ذخائر ، تنصیبات اور تیل کی ریفائنریوں نیز ہتھیاروں اور گولہ بارود کے انباروں کا وجود خاص طور پر لیبیا میں ، اور ساتھ ہی آزاد پانیوں تک دسترسی اور اسٹریٹیجک محل وقوع وہ جملہ وجوہات ہیں جس کے باعث داعشی اس علاقے کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں-

دوسری جانب اس علاقے کا یورپ کی سرحدوں سے قریب واقع ہونا بھی شمالی افریقہ خاص طور پر لیبیا اور تیونس جیسے ملکوں میں داعش کی موجودگی کی تقویت کا ایک محرک ہے- برطانوی دفاع کونسل کے محقق جوزف فیلون کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ داعشیوں کی یہ کوشش ہے کہ اپنے حملوں کے ذریعے لیبیا کے عام شہریوں کے درمیان خوف و دہشت پھلائیں اور لیبیائی باشندوں  کو پڑوسی ملکوں اور یورپی ملکوں کی جانب فرار پر مجبور کردیں- یہی وہ مجموعی عوامل ہیں جو اس بات کا باعث بنے ہیں کہ داعش اس وقت ماضی سے زیادہ شمالی افریقہ کے علاقے میں اپنی موجودگی کو تقویت پہنچانے کے درپے ہے-