ٹرمپ کا ایران کو الگ تھلگ کرنے کا خواب
بلومبرگ ویب سائٹ نے ایران کو الگ تھلگ کرنے پر مبنی ٹرمپ کا خواب کے زیر عنوان ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں آیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے خاتمے اور ایران میں سرمایہ کاری کو اچانک روکنے کے درپے ہیں۔
بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جولائی سنہ دو ہزار پندرہ کو طے پانے والے ایٹمی معاہدے یا مشترکہ جامع ایکشن پلان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے صرف چھ مہینے گزرنے کے بعد ہی مشکل کا سامنا ہے۔ دریں اثناء روس، چین اور یورپی یونین نے بہت مشکل سے طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں از سرنو مذاکرات کئے جانےکو مسترد کر دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرتے ہوئے پانچ اگست کو مشترکہ جامع ایکشن پلان کا دفاع کیا۔ البتہ ٹرمپ حقائق کو مسخ کر کے اور ایسے مسائل اٹھا کر جن کا ان کے بقول ایٹمی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے حقیقت میں مشترکہ جامع ایکشن پلان سے پہلے والی پوزیشن پر جانا چاہتے ہیں اور اس طرح سے وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس باے میں لکھا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کی مشتبہ فوجی سائٹوں کا مزید معائنہ کیا جائے۔ لیکن اسے ایران پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے اس کے خلاف عالمی اجماع قائم کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔
ایٹمی ہتھیاروں کے بارےمیں ایران کا موقف شروع سے ہی شفاف رہا ہے۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی تصدیق میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قرارداد نمبر بائیس اکتیس منظور کئے جانے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا کہ ایران بین الاقوامی سلامتی کی ضرورت اور این پی ٹی معاہدے کے تحت ایک فرض اور ذمےداری کے طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی پر تاکید کرتا ہے اور وہ علاقوں خصوصا مشرق وسطی کے علاقے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کئے جانے کا خواہاں ہے۔ واضح سی بات ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی دفاعی نوعیت کا ہے اور ایران کبھی بھی اپنی دفاعی صلاحیت کےبارے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ اس لئے ٹرمپ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کے بارے میں جو راستہ اختیار کیا ہے وہ جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کشتی کو چٹان کے ساتھ ٹکرانے کے مترادف ہے۔
بلومبرگ کے نزدیک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کی وجہ سے ایران میں امریکہ کے حریفوں کو سرمایہ کاری کا زیادہ بہتر موقع ہاتھ لگا ہے اور امریکہ کی آئل کمپنیاں اس ایٹمی معاہدے سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوگئی ہیں اور ان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ البتہ ان تمام مسائل سے قطع نظر رہبر انقلاب اسلامی نے ڈاکٹر حسن روحانی کے عہدۂ صدارت کی توثیق کی تقریب میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا۔ آپ نے اس موقع پر فرمایا کہ اگرچہ پابندیوں کی وجہ سے بعض مشکلات پیدا ہوئیں لیکن ان پابندیوں کی وجہ سے ہماری توجہ ملکی صلاحیتوں پر مرکوز ہوگئی اور یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی ایران آج انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی برسوں کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ چار عشروں پر محیط بین الاقوامی سرگرمیوں سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ منہ زور طاقتوں کے مقابلے استقامت کا مظاہرہ کرنے کی نسبت ان طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی صورت میں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔