ایرانی پارلیمنٹ کی امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے خطے میں امریکہ کے دہشت گردانہ اور مہم جوئی پر مبنی اقدامات کے مقابلے کے منصوبے کی شق نمبر گیارہ کے دائرہ کار میں حکومت کو اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت بڑھانے اور دفاعی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا پابند کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ کاظم جلالی نے ہمارے نمائندے کے ساتھ گفتگو کے دوران امریکہ کے دہشت گردانہ اور مہم جوئی پر مبنی اقدامات کے مقابلے سے متعلق بل پارلیمنٹ میں منظور کئے جانےکی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس بل میں مسلح افواج کی حمایت کے مقصد سے ایک ہزار ارب تومان میزائلی سرگرمیوں میں توسیع کے لئے اور ایک ہزار ارب تومان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی القدس بریگیڈ کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ القدس بریگیڈ اس رقم کو دہشت گردی کے مقابلے کےلئے خرچ کرے گی۔
تمام ممالک اپنے اردگرد کے ماحول اور خطرات کو مدنظر رکھ کر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں اور سیکورٹی کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ ایران کو اپنی جغرافیائی اور جیوپولیٹکل صورتحال کی وجہ سے اپنی سرحدوں پر بعض خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات کے مقابلے کے لئے ایران کا اپنی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیت کو بڑھانا ایک منطقی اور جائز امر ہے۔
ایران کی دفاعی حکمت عملی کسی بھی ملک کے لئے خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ صرف خطرات کو دور کرنے کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں اپنی بدعہدی کے ساتھ اسلامی جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور بصورت امکان اسے تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ امریکہ کی پالیسی مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی اور ایک ایسا مکینزم تیار کرنا ہے جس کے ذریعے دو اہداف حاصل ہو سکتے ہوں۔ اول: ایران کی میزائلی طاقت کو اس الزام کے ساتھ ختم کرنا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوم یہ کہ ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر استقامت کے محور کی طاقت کو کم یا سرے سے ختم کرنا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کے ایران مخالف بڑھتے ہوئے خطرات اور اس کے اہداف کی شناخت کے ساتھ ہمیشہ ملک کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کی تاکید کی ہے۔
آپ نے اکتیس اگست سنہ دو ہزار سولہ کو دفاعی صنعتوں کے معائنے کے موقع پر اس بارے میں فرمایا تھا کہ دنیا کی منہ زور طاقتوں نے اپنی طاقت میں بہت اضافہ کر لیا ہے، ان کے اندر انسانیت کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا ہے، وہ دہشت گردی کے مقابلے کے بہانے علانیہ طور پر شادی کی تقریبات اور ہسپتالوں پر بمباری کرتی ہیں، سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہیں اور کسی بھی ادارے اور تنظیم کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ جب صورتحال ایسی ہے تو پھر ہمیں اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانا چاہئے تاکہ منہ زور طاقتوں کو بھی خطرے کا احساس ہو۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ البتہ ہم دفاعی صنعتوں میں توسیع کے سلسلے میں بعض حدود کے قائل ہیں اور اعتقادی اور دینی تعلیمات کی بنیاد پر کیمیاوی اور ایٹمی ہتھیاروں جیسے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار ممنوع ہیں۔
اس وقت ایران دفاع حتی جارحانہ اعتبار سے اس قدر طاقتور ہوچکا ہے کہ وہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی طاقتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ سات جون کو ایران نے تہران میں دہشت گرد گروہ داعش کے حملے کے جواب میں جو جوابی کارروائی کی تھی اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سلامتی اور دفاعی طاقت ایران کی ریڈ لائن شمار ہوتی ہے اور ایران اپنی سلامتی کے دفاع کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی تامل سے کام نہیں لے گا۔ ایران کی میزائلی صلاحیت بڑھانے کے لئے بجٹ میں اضافے سے متعلق پارلیمنٹ نے جو بل منظور کیا ہے وہ بھی اسی بات پر تاکید ہے۔