ایٹمی معاہدہ کے خلاف امریکہ کی گھسٹی پٹی پالیسیاں
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل یوکیا آمانو کے نام ایک خط میں، اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی کے دورہ ویانا کے اہداف کے منفی نتائج کی بابت خبردار کیا ہے-
جواد ظریف نے یوکیا آمانو کے نام اپنے خط میں اس دورے کے بارے میں لکھا ہے کہ " حتی اس دورے کے انجام پانے سے قبل ، اس کی منصوبہ بندی ، اس کا پروپگنڈہ کئے جانے کے طریقہ کار اور اس کی جو علامات ظاہر ہوتی ہیں اس سے ایٹمی منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد کے تخریبی نتائج ظاہر ہوجاتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نے اپنے دورہ ویانا سے قبل واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ طے یہ پایا ہے کہ اس دورے میں آئی اے ای اے کے حکام ، ایران کے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے انجام پانے والے جائزوں کی وسعت اور اس کے موثر ہونے کے بارے میں امریکی سوالات کا جواب دیں گے-
اس بیان سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کے پاس ایٹمی مسئلے کے بارے میں کہنے کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے اور امریکہ صرف ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی توجیہ کا واحد راستہ اپنے ماقبل کے دعووں اور ماضی کی افترا پردازیوں کے اعادے میں دیکھ رہا ہے- یہ دعوے 2005 سے، ایران کے ایٹمی پروگرام میں فوجی اہداف کے تعلق سے ایک خود ساختہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد سے کئے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ دعوے پایہ ثبوت تک نہیں پہنچے ہیں کیوں کہ یہ محض جھوٹے اور خود ساختہ دعوے سے زیادہ کچھ نہیں تھے-
امریکہ کا ایک سناریو ٹرمپ کے دور حکومت میں یہ ہے کہ ایٹمی معاہدے کے ضمن میں بے بنیاد دعووں اور الزامات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھائے- امریکیوں کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی کئے بغیر اس سے عبور کرسکتے ہیں- صرف ماضی سے جو فرق ہے یہ ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے خلاف تنقیدوں میں کمی لانے ، اور ایٹمی معاہدے کے دائرۂ کار سے باہر، ایران پر دباؤ ڈالنے میں کوشاں ہے لیکن اسے اس مسئلے میں بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کی ضرورت ہے-
موجودہ حالات میں ٹرمپ کہ جو کمزور پوزیشن کے ساتھ برسراقتدار آئے ہیں اگر وہ چاہیں کہ سلامتی کونسل کے دائرۂ کار سے باہر نکل کر ایٹمی معاہدے کے بارے میں کوئی اقدام کریں تو انہیں سخت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا- کیوں کہ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور امریکہ ، ایٹمی مسئلے میں مذاکرات کا صرف ایک فریق ہے کہ جو بعض تحفظات کی بنیاد پر ایران اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آیا - ان تحفظات میں سے ایک ، ایران کے خلاف پابندیوں کا بے نتیجہ ہونا اور ایران کے خلاف پابندی جاری رکھنے میں، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کا امریکہ کا ساتھ نہ دینا تھا- ایک اور نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن نہ ہونے کے حوالے سے، کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور اس حقیقت کی امریکہ کے سولہ انٹلی جنس اداروں نے تصدیق بھی کی ہے-
جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے بھی اپنی رپورٹوں میں مسلسل یہ ثابت کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام آئی اے ای اے کے قوانین کے دائرے میں اور این پی ٹی معاہدے کے مطابق انجام پائے ہیں اور پرامن ہیں۔ اس بناء پر امریکہ کے پاس مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دائرے میں ایٹمی مذاکرات میں شامل ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا- اس لئے امریکہ اپنے اس سیاسی کھیل کو جاری رکھنے کے لئے، بس یکطرفہ اقدامات انجام دے سکتا اور غیر ایٹمی پابندیاں برقرار رکھ سکتا ہے- اس کے ساتھ ہی امریکی حکام نے دو مسئلے پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اس میں سے اول یہ ہے کہ وہ مطمئن ہوجائیں کہ کس حد تک انہیں اس سلسلے میں ملکی سطح پر سیاسی اتفاق رائے حاصل ہے، لیکن ٹرمپ کے خلاف، روز افزوں مخالفتوں اور امریکی وعدہ خلافیوں سے لاحق تشویش کے پیش نظر اس طرح کا اجماع اور اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے-
اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ مطمئن ہوجائے کہ وہ ایران مخالف اپنے اقدامات کے سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والی مخالفتوں کا جواب دہ ہونے پر قادر ہے اور یہ کہ پابندیوں کے آپشن کی جانب دوبارہ بازگشت کیا اس بار امریکہ کے الگ تھلگ ہونے کا سبب نہیں بنے گی ؟ جبکہ ان میں سے بعض پابندیوں سے، قانونی اور اسٹریٹیجک مخالفت ہوتی ہے کہ جو ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں یعنی یورپی یونین ، روس اور چین کے لئے اہمیت رکھتی ہیں- اس لئے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی اقدامات کو ممکن ہے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک اسٹریٹیجک فیصلہ قرار دیا جائے لیکن بہرصورت اس کی ماہیت ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے کہ جو ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے کہ جس کا امریکہ کو جواب دہ ہونا چاہئے-
توقع کی جا رہی ہے کہ نیکی ہیلی کا دورہ ویانا ٹرمپ حکومت کے لئے ایک موقع ہوگا تاکہ امریکی صدر اپنے خواب و خیال سے باہر آجائیں اور حقائق کو درک کرسکیں۔