پاکستان سے خیر سگالی کے دروازے بند ہوسکتے ہیں: ہندوستانی وزیر دفاع
ہندوستان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نےکہا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی روش نہ بدلی تو وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان سے خیر سگالی کے جو دروازے کھولے تھے وہ بند ہوسکتے ہیں۔
ہندوستانی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ میں منوہر پاریکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نریندر مودی جب پاکستانی وزیراعظم سے ملنے لاہور گئے تھے تب انہوں نے مذاکرات کی کھڑکی کھولی تھی لیکن لگتا ہے اب وہ کھڑکی آہستہ آہستہ بند ہورہی ہے،اس سے پہلے کہ یہ کھڑکی مکمل بند ہوجائے پاکستان ، ہندوستان کا اعتماد جیتنے میں سنجیدگی دکھائے ۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کیا -
ہندوستانی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدگی نہ دکھائی تو مذاکرات کے جو دروازے کھولے گئے تھے دہشت گردی سے نمٹنے میں لاپرواہی کے باعث انہیں بند کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کو اچھے اور برے کے ترازو میں تولتا ہے-
پاکستان برے دہشت گروں کے خلاف تو کارروائی کررہاہے لیکن اس نے اچھے دہشت گردوں کو افغانستان اور ہندوستان میں حملے کی کھلی چھوٹ دے دی، جسے سفارتی سطح پر حل ہونا چاہیے۔
منوہر پاریکر کا یہ بیان، پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والی ہندوستانی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے سربراہ کے بیان کے عین ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔