ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہرے، 60 افراد زخمی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے تازہ پرتشدد مظاہروں میں کم سے کم ساٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے کے مطابق ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جمعے کو بھی حالات سخت کشیدہ رہے اور حکام نے کسی بھی جگہ لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حکام نے کشمیر کے تمام دس اضلاح میں سخت کرفیو نافذ کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود لوگوں نے جامع مسجد چلو کال پرعمل کر تے ہوئے مختلف علاقوں میں احتجاجی جلوس نکالے جس کے دوران سیکورٹی فورس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس نے ایک بار پھر سرکردہ کشمیری رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور آغا سید الحسن الموسوی کو اس وقت گرفتار کرلیا جب انہوں نے اپنی نظربندی توڑتے ہوئے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گھر سے باہر آنے کی کوشش کی۔
ہمارے نمائندے کے مطابق سری نگر، بٹ گام، کولگام ، شوپیاں اور اسلام آباد جیسے علاقوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جس میں ساٹھ افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ زخمی ہونے والوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ہندوستان کی سیکورٹی فورس نے ایک بار پھر کشمیری مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا ہے۔ اسپتال کے ذرائع نے بتایاکہ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں حالات کشیدہ ضرور ہیں لیکن سیکورٹی فورس کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک پچپن سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ جبکہ چار ہزار سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں ۔