پانی کی تقسیم کا معاملہ،کرناٹک اورتامل ناڈو میں تشدد اور جلاؤ گھراؤ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i248101-پانی_کی_تقسیم_کا_معاملہ_کرناٹک_اورتامل_ناڈو_میں_تشدد_اور_جلاؤ_گھراؤ
کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد کرناٹک اورتامل ناڈو میں پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھراؤ کے واقعات پر وزیراعظم نریندرمودی نے گہری تشویش ظاہر کی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۵ Asia/Tehran
  • پانی کی تقسیم کا معاملہ،کرناٹک اورتامل ناڈو میں تشدد اور جلاؤ گھراؤ

کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد کرناٹک اورتامل ناڈو میں پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھراؤ کے واقعات پر وزیراعظم نریندرمودی نے گہری تشویش ظاہر کی ہے-

وزیراعظم نریندرمودی نے بنگلور اور چنئی میں بھڑکے تشدد اور جلاؤ گھراؤ کے واقعات کے بعد دونوں ریاستوں کے عوام سے امن قائم رکھنے اور اور صبر وتحمل سے کام لینے کی  درخواست کی ہے - انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مسئلے کا حل صبر و تحمل اور باہمی بات چیت کے ذریعے ہی تلاش کیا جاتاہے -

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو روز میں کرناٹک اور تامل ناڈو میں تشدد اور آگ زنی کے جو واقعات ہوئے ہیں سے ان سے براہ راست نقصان غریبوں اور ملک کو پہنچ رہا ہے- انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی دونوں ریاستیں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کے حل کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گی -

واضح رہے کہ کاویری ندی سے پانی چھوڑنے کے معاملے پر پیدا ہوئے تازہ تنازعے کے درمیان بنگلوراور ریاست کرناٹک کے دیگر شہروں میں تشدد بھڑک اٹھا  - بنگلور میں بڑی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے دسیوں بسوں اور ٹرکوں کو آگ لگادی جبکہ مشتعل ہجوم نے میڈیا کے کارکنوں کو بھی زد و کوب کیا-اس دوران پولیس کی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا-

بتایاجاتاہے کہ ریاست تامل ناڈو کی نمبر کی تقریبا چالیس بسوں اور گاڑیوں  کو آگ لگادی گئی-  ریاست کرناٹک کے وزیراعلی نے اپنی ریاست میں تامل ناڈو کے باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلایاہے ساتھ ہی انہوں نے تامل ناڈو کی وزیراعلی جے للیتا سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی تامل ناڈو میں کرناٹک کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں-

دریں اثنا تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی میں بھی لوگوں نے پرتشدد مظاہرے کئے - مظاہرین نے کرناٹک کے شہریوں پرحملہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کو نقصان پہنچایا - واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ریاست کرناٹک سے کہا ہے کہ وہ آئندہ بیس ستمبرتک تامل ناڈو کے لئے کاویری ندی سے بارہ ہزار کیوسک پانی چھوڑے جس پر کرناٹک کے  باشندے سخت ناراض ہیں-

کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر تامل ناڈو اور کرناٹک کے درمیان کئی عشرے سے تنازعہ چل رہا ہے جو ختم ہونےکا نام نہیں لے رہاہے - ماہرین کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی حساسیت اور نزاکت کا علم ہونے کے بعد دونوں ریاستوں خاص طور پر کرناٹک کی ریاستی حکومت نے سیکورٹی کے انتظامات صحیح طریقے سے انجام نہیں دئے -