ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کے متعدد علاقوں میں کرفیو
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i254338-ہندوستان_کے_زیرانتظام_کشمیر_میں_کے_متعدد_علاقوں_میں_کرفیو
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک سو پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار ہے اور جمعے کو سری نگر سمیت کئی علاقوں میں اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیاگیا
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۳:۳۲ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کے متعدد علاقوں میں کرفیو

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک سو پانچویں روز بھی کشیدگی برقرار ہے اور جمعے کو سری نگر سمیت کئی علاقوں میں اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیاگیا

سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ حکام نے اس ہفتے بھی جمعے کو سری نگرکی تاریخی جامع مسجد کے ساتھ ساتھ وادی کی کئی دیگر مرکزی مساجد میں نمازجمعہ پر پابندی عائد رکھی - حکام کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر نماز جمعہ کے اجتماعات سے غلط فائد اٹھاکر وادی کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے مرکزی مساجد میں نماز جمعہ پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے اور جوں ہی حالات بہتر ہوئے یہ عارضی پابندی بھی ہٹالی جائے گی - حکام نے جمعے کو سری نگر کے پائین شہر کے ساتھ وادی کے کئی دیگرحساس علاقوں میں اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا جبکہ دیگر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا - حکومت کی جانب سے سخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود لوگوں نے علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر اراکین اسمبلی کے گھروں کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورس نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا - علیحدگی پسند جماعتوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ وادی میں اراکین اسمبلی کے گھروں کے باہر روزانہ مارچ کریں - اس دوران جمعے کو بھی ہڑتال کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے اور تجارتی مراکز اور اسکول بند رہے - اطلاعات ہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت احتجاج کیا ہے جس کے تحت اس نے ان ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کردیاہے جنھوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی - کشمیر میں سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنا یہ فیصلہ واپس لے بصورت دیگر حالات کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی - دوسری جانب  سیکورٹی فورس نے مظاہروں میں شرکت کرنےوالے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ تیز کردیا ہے - اس درمیان ریاست جموں کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے ہندوستان اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے بات چیت شروع کریں - محبوبہ مفتی نے سری نگرمیں ایک سرکاری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کی بحالی کے لئے امن کا ہونا ضروری ہے - ان کا کہنا تھا کہ گولیوں کی فائرنگ اور پتھراؤ کے ماحول میں بات چیت کا عمل ممکن نہیں ہے - محبوبہ مفتی نے کہا ہم سیکورٹی فورس کے افسران اور اہلکاروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ مقامی شدت پسند نوجوانوں کے خلاف انکاؤنٹر کارروائی نہ کریں بلکہ انہیں گھرلوٹنے اور سماج کے دھارے میں واپس آنے کا موقع دیا جائے - محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم، کتاب کمپیوٹر اور بیٹ بال ہونا چـاہئے ان کے ہاتھوں میں  پتھر آگئے ہیں -