سیمی کے کارکنوں کے انکاؤنٹر پر سوال
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے صدر مقام بھوپال کے سینٹرل جیل سے مبینہ طورپر ممنوعہ تنظیم سیمی کے ارکان کے فرار کر جانے اور پھر پولیس انکاؤنٹر میں ان کی ہلاکتوں پر ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے سوال کھڑے کر دئےہیں۔
اتوار اور پیر کی درمیانی رات بھوپال کی سینٹرل جیل سے ممنوعہ تنطیم سیمی کے آٹھ ارکان جیل سے فرار کر گئے تھے جس کے بعد پیر کو قریب کے ایک جنگل میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں نے انکاؤنٹر میں انہیں ہلاک کر دیا تھا-
ہندوستان کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے مرکزی رہنما ڈگ وجے سنگھ نے سیمی کے فراری کارکنوں کے خلاف پولیس انکاؤنٹر پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیشہ مسلم قیدی ہی کیوں فرار ہوتے ہیں کوئی ہندو قیدی کیوں نہیں فرار نہیں ہوتا- ڈگ وجے سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کی حکومت کے زمانے میں سیمی اور بجرنگ دل دونوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پابندی صرف سیمی پر لگی بجرنگ دل پر نہیں لگی -ڈگ وجے سنگھ نے اس معاملے میں کورٹ کی نگرانی میں این آئی اے سے جانچ کرانے کی مانگ کی ہے-
واضح رہے کہ سیمی کے فراری کارکنوں کے انکاؤنٹر کے دو ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکاؤنٹر پرشکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے- ایک ویڈیو کلپ میں دکھا یا گیا ہے کہ پولیس ایک مردہ لاشں پر گولی چلا رہی جبکہ دوسرے کلپ میں دکھایا گیا ہےکہ ان میں سے دو کارکن خود سپردگی کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، اس کے باوجود پولیس نے انہیں گولی مار دی-
ممبئی میں جمعیت علماء مہاراشٹرکے صدر مولانا محمد ندیم صدیقی نے اس انکاؤنٹر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے صریحی قتل بتایا ہے اور کہا کہ یہ صرف ان آٹھ مسلم نوجوانوں کا ہی قتل نہیں بلکہ عدلیہ اور جمہوریت پر ہمارا جو اعتماد تھا اس کا بھی قتل ہے- دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس انکاؤنٹر کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔