نوٹ بندی معاملہ ہندوستانی پارلیمان میں زبردست ہنگامہ
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i258589-نوٹ_بندی_معاملہ_ہندوستانی_پارلیمان_میں_زبردست_ہنگامہ
ہندوستان میں نوٹ بندی کے معاملے پر جمعے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائیاں متاثر ہوئیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۱۸, ۲۰۱۶ ۱۴:۵۵ Asia/Tehran
  • نوٹ بندی معاملہ ہندوستانی پارلیمان میں زبردست ہنگامہ

ہندوستان میں نوٹ بندی کے معاملے پر جمعے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائیاں متاثر ہوئیں

موسم سرما کے پارلیمنٹ کے اجلاس کے تیسرے روز بھی ہندوستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نوٹ بندی کا معاملہ چھایا رہا - حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی - ایوان زیریں لوک سبھا میں وقفہ سوال کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ملیکا ارجن کھڑے ہوگئے اور انہوں  نے نوٹ بندی پر ضابطہ چھپن کے تحت بحث کرانے کی مانگ کی جس میں ووٹنگ کی بھی بات کی گئی ہے - کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ نوٹ بندی سے لوگ بیحد پریشان ہیں ہم نے اس فیصلے کو واپس لینے کے لئے نوٹس دیا ہے اور ضابطہ چھپن کے تحت اس معاملے پر ایوان میں بحث کرائی جائے -  دوسری جانب حکومت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہاکہ عوام بلیک منی اور بدعنوانی کے خلاف سرکار کے ساتھ ہیں- انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر بحث کے لئےتیار ہے حزب اختلاف اور حکمراں جماعت کے درمیان شدید بحث و مباحثے اور ہنگامے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی - دوسری جانب ایوان بالا راجیہ سبھا میں بھی نوٹ بندی معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا اور ایوان کی کارروائی کئی بار ملتوی کرنی پڑی ایک مرحلے پر اپوزیشن ارکان  اسپیکر کے اسٹیج کے قریب آکر حکومتی اقدام کے خلاف نعرے لگانے لگے - دوسری جانب کولکتہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ نوٹ بندی پر حکومت کا فیصلہ بلا سوچا سمجھا فیصلہ ہے کولکتہ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ کرتے وقت حکومت نے اپنے دماغ کا صحیح استعمال نہیں کیا اوراس سلسلے میں وہ ہرروز قانون تبدیل کررہی ہے - کولکتہ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ کرتے وقت صحیح طریقے سے ہوم ورک نہیں کیا گیا- کولکتہ ہائی کورٹ نے کہا ہےکہ اس فیصلے سے عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے - اس درمیان ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بھی حکومت کی طرف سے دائرکی گئی اس درخواست پر سماعت کرنے پر پابندی لگادی ہے جس میں حکومت نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف عدالتوں میں جمع کرائی گئی   درخواستوں کو خارج کردیا جائے -  سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک بڑا عوامی معاملہ ہے اس لئے نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو خارج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی سماعت روک لگائی جاسکتی ہے - ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس بیان سے ٹوٹ بندی کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت کا راستہ ہموار  ہوگیا ہے -