من موھن سنگھ کی وزیراعظم نریندرمودی پرکڑی نکتہ چینی
ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے نوٹ بندی معاملے پراس ملک کے وزیراعظم نریندر مودی پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مودی کے فیصلے کو فاش غلطی سے تعبیرکیا۔
ہمارے نائندے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پکئی دنوں سے 500 اور 1000 کے نوٹوں کی منسوخی پر بحث کے سلسلے میں ہندوستانی پارلیمنٹ میں جاری تعطل کل ختم ہوگیا اور ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں نوٹ بندی پر بحث شروع ہوئی، اس دوران سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے نوٹ بندی پر بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے نریندر مودی کے فیصلے کو فاش غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ نوٹ بندی کا فیصلہ ترقی و پیشرفت سے ہمکنار کردینے والا فیصلہ ہے اور اس سے دہشت گردی بھی رکے گی۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ میں اس امید کی مخالفت نہیں کر رہا ہوں لیکن جو لوگ متاثر ہو رہے ہیں ان کو سمجھنا اور سننا ضروری ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی نے پچاس دن انتظار کرنے کو کہا ہے، یہ حکمرانوں اور لیڈروں کے لئے کم وقت ہوسکتا ہے لیکن ملک کے غریبوں کے لئے یہ چھوٹا اور کم وقت نہیں ہے۔ ہندوستان کے سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ نوٹ بندی کا آخری نتیجہ کیا ہوگا۔ لیکن محسوس ہورہا ہے کہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، جیسے کہ بینکنگ سسٹم سے لوگوں کا اعتماد اب ختم ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 نومبر کو اچانک نوٹ بندی کا فیصلہ لینے کے بعد سے زرعی اور اقتصادی ترقی میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً دو فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ عام لوگوں کو نوٹ بندی سے سخت تکلیف ہوئی ہے۔ اب تک 65 افراد کی نوٹ بندی کی وجہ سے موت ہوچکی ہے جو کہ تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت بھی کمزور ہوئی ہے، اب غریبوں کے لئے 50 دن بھی زندہ رہنا دشوار ہوگیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان میں وزیراعظم نریندرمودی کے پتلے جلائے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور کل کولکاتا کے ہاکروں نے جلوس نکالا و مودی کے خلاف نعرے لگائے اورنریندر مودی کا پتلا جلایا ۔ دوسری جانب مہاراشٹرکانگریس نے نوٹ بندی کے خلاف 28 نومبر کو احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیاہے۔