ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان راجیہ سبھا میں جمعےکو بھی ہنگامہ
ہندوستان کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں جمعے کو بھی نوٹ بندی کے معاملے اور وزیراعظم کے ذریعے معافی مانگے جانے کے مطالبے پر زبردست ہنگامہ ہوا -
ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق نوٹ بندی کے معاملے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے خلاف وزیراعظم نریندرمودی کے بیان پر معافی مانگنے کے مطالبے پر زور دے رہے اپوزیشن اراکین نے جمعے کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا - اس ہنگامے کی وجہ سے دوپہر کے کھانےکے بعد ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی گئی - دوپہر کے کھانے کے بعد راجیہ سبھا کے ڈپٹی چئیرمین نے غیر سرکاری بلوں کو پیش کرنے کے لئے متعلقہ اراکین کے نام پکارے تو " انا ڈی ایم کے" اور کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ، وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے چیئرمین کی نشست کے سامنے آگئے- جواب میں بی جے پی کے اراکین نے بھی وزیراعظم کی حمایت میں نعرے لگائے اور یوں ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا -
دوسری جانب سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کےمعاملے پر سماعت، پیر تک ملتوی کردی ہے - سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعے کو سماعت کے دوران نوٹ بندی کی وجہ سے کوآپریٹیو بینکوں کو درپیش مسائل کے تناظرمیں کہا کہ مرکزی حکومت اگر ان بینکوں کے لئے کچھ کرسکتی ہے تو اس پر غور کرے اورسماعت پیرتک ملتوی کردی - دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیراعظم نریندرمودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ٹی آرپی کی سیاست میں لگے ہوئے ہیں اورہ سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں - راہل گاندھی نے یہ بات کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں کہی -