کشمیر: پنڈتوں کی محفوظ طریقے سے واپسی کی قرارداد منظور
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی میں پنڈتوں کی محفوظ طریقے سے واپسی سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی۔
کشمیراسمبلی کی کل کی کارروائی کے دوران اپوزیشن کے لیڈرعمرعبداللہ نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی کشمیر سے نقل مکانی کے ستائیس سال گزر چکے ہیں، اب ان کی باعزت واپسی کے لئے سازگار ماحول تیار کیا جانا چاہئے۔ اس دوران جموں و کشمیر عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرشید نے ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈرعمرعبداللہ کی طرف سے پیش کی گئی اُس قرارداد کی مخالفت کی، جس کا مقصد کشمیری پنڈتوں کو کشمیر واپس آنے کی اپیل کی گئی ہے۔
اسمبلی میں عمرعبداللہ نے مجوزہ قرارداد پیش کی اور حکمران اتحاد سمیت تمام ارکان نے اس کی حمایت کی تاہم انجینئر رشید نے عمرعبداللہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیری پنڈت کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کشمیر میں آتے جاتے رہتے ہیں، نیز آج بھی وہ اپنی جائیدادوں اور عبادت گاہوں کی خبر گیری کرتے رہتے ہیں، تو قرارداد پیش کرنے کا کیا مقصد ہے اور اس قرارداد کے ذریعے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ قراردادوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ پانچ ماہ سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال بدستور بحرانی ہے۔ کشمیری عوام آٹھ جولائی کو ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے وقت سے احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں کر رہے ہیں جن میں اب تک ہزاروں کشمیری جاں بحق، زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں۔