ہندوستان:عوام سے پر امن رہنے کی اپیل
ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستان کے صدر رام ناتھ كووند اور وزیراعظم نریندر مودی نے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ رام رحیم کے پیروکاروں کی طرف سے کئے گئے تشدد کی مذمت اور تمام شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
رام ناتھ كووند نے ٹویٹ کیا، عدالت کے فیصلے کے بعد کئے گئے تشدد اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا قابل مذمت ہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے ہریانہ، پنجاب اور دہلی میں پر تشدد واقعات سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔
جنسی استحصال کے معاملے میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو پنچكولہ کی سی بی آئی عدالت کی طرف سے قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد پنجاب اور ہریانہ میں تشدد کے واقعات میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔
حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر انتظامیہ نے ہریانہ کے پنچكولہ، کیتھل، كلايت، سرسا ، چیکا اور پنجاب کے پٹیالہ، بھٹنڈا، مانسا، ملوٹ، سنگرور اور فیروزپور شہروں میں کرفیو لگا دیا ہے۔
فسادات میں بہت سی سرکاری اور نجی املاک کو نذرآتش کردیا گیا ہے پنچکولہ میں ڈیرہ کے حامیوں نے ایک سو سے زائد گاڑیوں کو جبکہ مرکزی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی ڈیرہ کے حامیوں نے کئی بسوں کو آگ لگادی ہے۔ مشتعل مظاہرین دہلی کے آنند وہار ریلوس اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کے چار ڈبوں کوآگ لگادی ہے۔
ہریانہ اور پنجاب سے گذرنےوالی دوسو پچاس ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
جمعے کی صبح سے ہی پنچکولہ میں عدالت کے باہر پہلے سے ہی گرومیت رام رحیم کے حامی جمع ہوگئے تھے اور جیسے ہی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ان کے حامیوں نے پرتشدد احتجاج شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ گرومیت رام رحیم پر ان کی ایک مرید خاتون نے ریاست ہریانہ کے قصبہ سرسا میں واقع ڈیرہ سچا کے ہیڈکوارٹر میں عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا۔
اس کیس کی سماعت گذشتہ دس سال سے جاری تھی اور ہائی کورٹ کی جانب سے متعدد حکم امتناع جاری ہونے کے بعد ان پر یہ فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب ڈیرہ سچا سودا کے ترجمان ڈاکٹر دلاور انساں نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہےاور ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد پولیس نے گرومیت رام رحیم کو حراست میں لے لیا ہے۔